’این ایس جی میں پاکستان سمیت کسی ملک کے مخالف نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa

انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انڈیا نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت نہیں کرے گا۔

سشما سوراج نے کہا کہ ’ہم این ایس جی میں میرٹ کی بنیاد پر پاکستان سمیت کسی بھی ملک کی شمولیت کے مخالف نہیں ہیں۔‘

٭ چین کی نیوکلیئر سپلائر گروپ میں انڈین رکنیت کی مخالفت

٭ نیوکلیئر سپلائر گروپ کیا ہے؟

انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج نے واضح کیا کہ چین این ایس جی میں انڈیا کی رکنیت کا مخالف نہیں ہے بلکہ چین صرف طریقۂ کار پر بات کر رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں پر امید ہوں کہ ہم چین کو قائل کر لیں گے۔ میں 23 ممالک کے ساتھ رابطے میں ہوں جن میں سے ایک یا دو ممالک نے اعتراضات اٹھائے ہیں لیکن میرے خیال میں اتفاق ہو جائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انڈیا رواں سال کے اختتام تک این ایس جی کا رکن بن جائے۔‘

دوسری جانب بعض انڈیا کی اخبار ’دا ہندو‘ کے مطابق انڈیا کے سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر نےگذشتہ ہفتے چین کا ’غیر اعلانیہ‘ دورہ کیا جس کا مقصد این ایس جی میں انڈیا کی شمولیت کے لیے چین سے حمایت کرنے کی درخواست کرنا تھا۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق انڈین سفارتی ذرائع نے سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر کے دورۂ چین کی تصدیق کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NSG

انڈیا کے دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ کا کہنا ہے کہ جے شنکر 16 اور 17 جون کو چین کے دورے پر تھے اور انھوں نے اس دوران انڈیا کی این ایس جی میں شمولیت سمیت دیگر تمام اہم امور پر بات چیت کی۔

رواں ہفتے ازبکستان میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بھی انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات متوقع ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں ان ممالک کی شمولیت کے خلاف ہے جنھوں نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی این پی ٹی کی توثیق نہیں کی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ ممالک جو این پی ٹی کا حصہ نہیں ہیں ان کو این ایس جی میں شامل کرنے کے حوالے سے کچھ بات چیت ہوئی ہے لیکن این ایس جی کے رکن ممالک اس معاملے پر متفق نہیں ہوئے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے جوہری تجارت کرنے والے ممالک کے گروپ میں شمولیت کے لیے باضابطہ درخواست دے رکھی ہے۔

انڈیا بھی نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں رکن کے طور پر شمولیت کا خواہاں ہے۔

ایس ایس جی کا اجلاس

نیوکلیئر سپلائیرز گروپ پیر سے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں شروع ہونے والے اپنے سالانہ اجلاس میں پاکستان اور بھارت کو رکنیت دینے کے معاملے پر غور کرے گا۔

اطلاعات کے مطابق 48 ممالک پر مشتمل این ایس جی گروپ جوہری صلاحیت کے مالک ان دونوں ممالک کی رکنیت کے حوالے سے ایک ہفتے تک مشاورت کرے گا۔

اسی بارے میں