’سرحدی معاملات پر مشاورت کے لیے مناسب نظام ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان وفد میں حکمت خلیل کرزئی کے علاوہ افغان وزارتِ دفاع اور داخلہ کے علاوہ افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے نمائندے بھی شامل ہیں

پاکستانی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے حکام نے اتفاق کیا ہے کہ سرحدی معاملات پر مشاورت کے لیے ایک مناسب نظام کی تشکیل بہت ضروری ہے۔

یہ بات پیر کو سرحدی انتظام اور طورخم کی سرحدی کراسنگ کے مسائل پر بات چیت کے لیے اسلام آباد پہنچنے والے افغان وفد کی پاکستانی حکام سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہی گئی ہے۔

٭ ’طورخم پر گیٹ بنے گا، حملہ ہوا تو جواب دیا جائےگا‘

٭ پاکستان نے طورخم سرحد کھول دی

افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کی قیادت میں چھ رکنی وفد پیر کو اسلام آباد پہنچا۔

اس وفد میں افغان وزارتِ دفاع اور داخلہ کے علاوہ افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کا نمائندہ بھی شامل ہے۔

بیان کے مطابق اسلام آباد آمد کے بعد وفد نے دفترِ خارجہ میں سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کی قیادت میں پاکستانی وفد سے ملاقات کی۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بات چیت میں دونوں ممالک کے وفود نے سرحدی معاملات کو باوقار انداز میں حل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں پیش کیے جانے والے خیالات دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت تک پہنچانے پر اتفاق ہوا ہے۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی اور افغان وفود نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدی انتظام کے معاملے پر دوطرفہ مشاورت کے ایک مناسب نظام کی تشکیل ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں ممالک کے حکام کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد پانچ دن سے بند طورخم سرحد گذشتہ سنیچر کی صبح کھول دی گئی تھی

دونوں وفود نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موثر سرحدی انتظام امن، انسدادِ دہشت گردی اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری سے ملاقات کے بعد افغان وفد وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خِارجہ امور سرتاج عزیز سے بھی ملا۔

سرتاج عزیز نے ہی افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمر اور وزیرِ خارجہ صلاح الدین ربانی کو طورخم کے سرحدی تنازع پر بات چیت کی دعوت دی تھی۔

سنیچر کو افغانستان کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ پیر کو پاکستان جانے والا افغان وفد کوشش کرے گا کہ دونوں ممالک کے درمیان طورخم پر آئندہ کسی قسم کی کشیدگی نہ ہو۔

حال ہی میں مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئِے کہا تھا کہ جب تک افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر ’بارڈر مینیجمنٹ‘ کا کوئی نظام قائم نہیں ہو جاتا،اس وقت تک دہشتگردی، انتہا پسندی اور سمگلنگ جیسے مسائل پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سرحد پر دونوں جانب سے آمد و رفت دستاویزات کے ذریعے ہی ہونی چاہیے۔‘

سرتاج عزیز کا مزید کہنا تھا کہ طورخم پرگیٹ کی تعمیر جاری رہے گی کیونکہ اس گیٹ کی تعمیر سے نہ تو پاکستان افغانستان کے ساتھ کسی دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور نہ ہی کسی بین الاقوامی قانون کے منافی کام کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد پر حالیہ کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے حکام کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد پانچ دن سے بند طورخم سرحد گذشتہ سنیچر کی صبح کھول دی گئی تھی۔

اس کشیدگی کے دوران دونوں جانب سے سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا تھا اور ان واقعات میں دو افغان اور ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہلاک اور عام شہریوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں