عمران خان کہاں ہیں؟ اسلام آباد کی پولیس ’لاعلم‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے ذریعے یہ ملزمان عوام کو نظر آتے ہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے ایس ایس پی آپریشنز عصمت اللہ جونیجو اور دیگر پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کو بتایا ہے کہ اُنھیں معلوم ہی نہیں ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہاں ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اگر اُنھیں معلوم ہو جائے تو وہ ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کریں۔

٭ عمران خان اور طاہرالقادری کے وارنٹ گرفتاری جاری

٭ ’طاہر القادری فوج کی پوزیشن خراب کر رہے ہیں‘

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری پولیس اہلکاروں پر تشدد کے مقدمے میں نامزد ملزم ہیں اور عدالت نے ان دونوں ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

عدالت نے پولیس کو ان دونوں جماعتوں کے سربراہوں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جب اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو تھانہ سیکرٹریٹ کے ایڈشنل ایس ایچ او نے ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری سے متعلق تعمیلی رپورٹ پیش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملزم ڈاکٹر طاہرالقادری کی گرفتاری کے بارے میں پولیس حکام نے کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی

اس رپورٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ان عدالتی احکامات کی تعمیل کے لیے ملزم عمران خان کی بنی گالہ میں واقع رہائش گاہ پر گئے اور وہاں گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈ سے ملزم کے بارے میں دریافت کیا تو پولیس حکام کو بتایا گیا کہ اُنھیں نہیں معلوم عمران خان کہاں ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ وہ اپنے طو پر بھی معلوم کر رہے ہیں کہ ملزم عمران خان کہاں پر ہیں لیکن اس بارے میں مصدقہ اطلاعات نہیں مل رہی ہیں۔

عدالت نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے ذریعے یہ ملزمان عوام کو نظر آتے ہیں لیکن حیرت ہے کہ یہ ملزمان پولیس کو کیوں نظر نہیں آتے۔

دوسرے ملزم ڈاکٹر طاہرالقادری کی گرفتاری کے بارے میں پولیس حکام نے کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی اور پولیس حکام کا موقف ہے کہ وہ ابھی تک بیرون ملک میں ہیں جبکہ وہ گذشتہ ہفتے ہی پاکستان واپس لوٹے ہیں۔

عدالت نے ان دونوں ملزموں کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اُنھیں 20 جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ بعض مصلحتوں کے تحت ملزموں کو گرفتار نہیں کیا جا رہا کیونکہ حکومت کو خدشہ ہے کہ ایسا ہونے کی صورت میں ملک میں امن وامان کی صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں