چپلوں پر ’اوم‘ تحریر، دکاندار گرفتار

چپل
Image caption پاکستان ہندو کاؤنسل نے ایک بیان میں ان چپلوں کی فروخت کی مذمت کی ہے

سندھ کے شہر ٹنڈو آدم میں پولیس نے ایک دکاندار کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ ایسی چپلیں فروخت کر رہا تھا جن پر ہندو منترا ’اوم‘ تحریر تھا۔

٭ اگر ظالم مسلمان ہے تو ہندو برادری کے ساتھ کھڑا ہوں گا: نواز شریف

ٹنڈو آدم تھانے پر ریاست کی مدعیت میں دکاندار شاہذیب خاصخیلی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں مدعی محمد شریف نے بیان کیا ہے انھوں نے ٹنڈو آدم جامع مسجد کے قریب واقع شورا سینٹر سے شاہذیب خاصخیلی کو گرفتار کیا اور ان سے خواتین کی چپلیں بھی برآمد کیں جن پر اوم تحریر تھا۔

ملزم کے خلاف توہینِ مذہب کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا جبکہ ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے یہ چپلیں لاہور کے موتی بازار سے منگوائی تھیں جس کی رسید پولیس کو فراہم کی گئی ہے۔

ملزم کو ٹنڈو آدم کے جوڈیشل مجسٹریٹ اکبر میمن نے ضمانت پر رہا کر دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان ہندو کونسل نے ایک بیان میں ان چپلوں کی فروخت کی مذمت کی تھی۔ تنظیم کے رہنما اور مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار ونکوانی کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ صوبے میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

آئینِ پاکستان اقلیتوں کی حفاظت یقینی بنانے کیے لیے ریاست کو پابند کرتا ہے۔ لیکن گزشتہ تین برسوں سے ٹنڈو آدم کے کچھ دکانداروں نے یہ وطیرہ بنا لیا ہے کہ وہ عید کے موقع پر ہندو مذہبی لفظ ’اوم‘ کو جوتوں پر نمایاں کرکے فروخت کرتے ہیں۔

پاکستان ہندو کونسل کی جانب سے میڈیا کو چپلوں کی تصاویر بھی فراہم کی گئی تھیں۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے سانگھڑ پولیس کی کارروائی کو قابل تحسین قرار دیا اور کہا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرکے ملک بھر میں بسنے والے ہندوؤں کے جذبات کو مزید ٹھیس پہنچانے سے بچا لیا ہے۔

رمیش کمار کے مطابق شرپسند عناصرکی اس مذموم حرکت کے اثرات عالمی سطع پر بھی محسوس کیے گئے ہیں۔ انھوں نے وزیراعظم پاکستان سے توہینِ مذہب قانون کے تحت ذمہ داران کے خلاف کڑی سزا کا مطالبہ بھی کیا۔

اسی بارے میں