’چیف جسٹس کے بیٹے کا اغوا سزاؤں کا ردعمل ہو سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption رینجرز نے اویس شاہ کے بارے میں اطلاع دینے پر 25 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے

پاکستان کے شہر کراچی سے لاپتہ ہونے والے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور حکام دبے الفاظ میں اس واقعے کو عدلیہ کی جانب سے شدت پسندوں کو دی جانے والی سزاؤں کا ممکنہ ردعمل قرار دے رہے ہیں۔

اویس شاہ ایڈووکیٹ پیر کی دوپہر شہر کے متمول علاقے کلفٹن میں واقع ایک سپر سٹور کے باہر سے غائب ہوگئے تھے۔

٭ شہباز تاثیر بازیاب نہیں ہوئے، اغوا کاروں نے خود چھوڑا

آئی جی سندھ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میں دس رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

منگل کو کراچی میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بھی اویس شاہ کی گمشدگی کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ حکومت نے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری آپریشن میں ایک بار پھر تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس کے بعد صوبائی مشیرِ اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پچھلے دنوں جو سزائیں آئی ہیں، دہشت گردوں کی یہ کارروائیاں صرف ریاست اور اداروں کو پریشان کرنے کے لیے نہیں خود عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ ہم عدلیہ کو سلام پیش کرتے ہیں ان دنوں انھوں نے بہت تیزی کے ساتھ کام کیا ہے اور وہ مزید تیزی کے ساتھ کام کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق اویس شاہ کی گاڑی کراچی کے علاقے کلفٹن میں آغا شاپنگ مال کے سامنے سے لاک پائی گئی ہے

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم سمجھ رہے تھے کہ صورتحال اطمینان بخش ہوگئی ہے، لیکن سٹریٹ کرائمز اور اویس شاہ کے اغوا نے یہ محسوس کروایا ہے کہ آپریشن میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔‘

رینجرز نے اویس شاہ کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے 25 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔

منگل کو ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے جبکہ سپیشل سکیورٹی یونٹ بھی اس واقعے کی تحقیقات میں شریک ہے۔

کراچی پولیس کی جانب سے موصول ہونے والے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اویس شاہ کی گمشدگی کی اطلاع انھیں پیر کی رات نو بج کر دس منٹ پر موصول ہوئی۔

پولیس کے مطابق اویس شاہ کی گاڑی کلفٹن میں آغا سپر سٹور کے سامنے کھڑی پائی گئی ہے اور وہ اندر سے بند تھی۔

مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر کی جانے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں انھیں دکان سے باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صوبے بھر میں وکلا نے ایڈووکیٹ اویس شاہ کے مبینہ اغوا کے خلاف منگل کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے اویس شاہ کے اغوا کی تحقیقات کے لیے جو کمیٹی تشکیل دے دی ہے اس میں ڈی آئی جی سی آئی اے سلطان خواجہ، ڈی آئی جی منیر شیخ، ایس ایس پی ڈاکٹر فاروق ، ایس ایس پی نوید احمد، ایس ایس پی سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب سمیت دس ارکان شامل ہیں۔

ادھر صوبے بھر میں وکلا نے ایڈووکیٹ اویس شاہ کے مبینہ اغوا کے خلاف منگل کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس بائیکاٹ کی کال سندھ بار کونسل نے دی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ماضی میں بھی اہم شخصیات کے بیٹوں کے اغوا کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

شدت پسندوں نے پانچ سال قبل سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو جبکہ تین سال قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کو بھی پنجاب سے اغوا کیا تھا اور یہ دونوں رواں برس ہی بازیاب ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں