پاک افغان تلخی عوامی سطح پر کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان اور افغانستان کے مابین پانچ روز تک طورخم سرحد پر حالیہ کشیدگی کے بعد حکومتوں کی سطح پر کسی نہ کسی حد تک حالات معمول پر آنے شروع ہوگئے ہیں تاہم عوامی سطح پر جذبات تاحال ٹھنڈے ہوتے نظرنہیں آ رہے۔

پیر کو افغانستان کا ایک وفد نائب وزیرخارجہ حکمت خلیل کرزئی کی سربراہی میں اسلام آباد پہنچا جس کا مقصد سرحدی انتظام اور طورخم کراسنگ پر دو طرفہ بات چیت کے ذریعے سے حل نکالنا تھا۔

تاہم اسی روز پشاور میں تاجر برادری کی طرف سے پشاور میں مقیم افغان مہاجرین کے خلاف ایک مظاہرے کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں حکومت سے افغان شہریوں کو اپنے ملک واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ مظاہرہ ایسے وقت ہوا جب اسی روز دنیا بھر میں مہاجرین کا عالمی دن بھی منایا جا رہا تھا۔

پاکستان میں گذشتہ تقریباً تین دہائیوں سے لاکھوں افغان شہری مہاجروں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 80 کی دہائی میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت لاکھوں افغان شہریوں نے ہجرت کرکے پاکستان کا رخ کیا اور اکثریتی افغان خاندان قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں مقیم ہوئے۔

تاہم افغانستان میں وقتاً فوقتاً حالات میں بہتری آنے کے بعد زیادہ تر افغان شہری اپنے ملک واپس جاتے رہے جس کی وجہ سےان کی تعداد پہلے مقابلے میں کم ہوتی رہی۔ لیکن افغانوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم ہے جو تازہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 16 لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

ان افغان شہریوں میں ایسے ہزاروں افراد شامل ہیں جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی، یہاں تعلیم حاصل کی، محنت مزدوری، نوکری بھی ادھر کرتے ہیں اور رہائش بھی یہاں اختیار کی ہوئی ہے۔ پشاور میں کئی ایسے افغان مہاجر بھی آباد ہیں جو یہاں پیدائش کے بعد آج تک افغانستان اپنے آبائی علاقوں کو نہیں گئے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان عرصہ دراز سے حکومتوں کی سطح پر سفارتی تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں جبکہ ان میں بہتری کی مدت ہمیشہ سے ہی کم رہی ہے۔

دونوں پڑوسی ممالک میں اعتماد کا بھی شدید فقدان پایا جاتا ہے، بالخصوص جب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ابتدا ہوئی ہے اس کے بعد سے کشیدگی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

لیکن ان تمام تر حقیقتوں کے باوجود دونوں پڑوسی ممالک کے عوام نے کبھی اپنے ملکوں کے درمیان تناؤ کی کیفیت کو اپنے اوپر مسلط نہیں کیا اور شاید اس کی وجہ وہ تاریخی ، ثقافتی، علاقائی اور اسلامی قریبی رشتے ہیں جو صدیوں سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قائم رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان میں کئی ایسے قبیلے رہتے ہیں جو سرحد کے دونوں طرف آباد ہیں اور جنہوں نے کبھی خود کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھا۔ لیکن اب کچھ عرصہ سے عوامی سطح پر ان رشتوں میں تلخی کا عنصر شامل ہو گیا ہے جسے دونوں طرف امن پسند اور قوم پرست جماعتیں خطرے سے تعبیر کر رہے ہیں۔

پشاور کے سینئیر صحافی اور مصنف عقیل یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ آرمی پبلک سکول پشاور اور باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے حملوں کے بعد سے ملک میں افغان شہریوں کے خلاف ردعمل سامنے آیا ہے کیونکہ ان حملوں کا الزام افغانستان پر لگایا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ دونوں واقعات ایسے تھے جس پر عوامی ردعمل آنا یقینی تھا، تاہم عوامی سطح پر یہ تعلقات اتنے کمزور بھی نہیں کہ ایک دو واقعات کے بعد ایک بھائی دوسرے بھائی کے خلاف ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عقیل یوسفزئی نے طورخم واقعہ کے بعد پاکستان میں افغان مہاجرین کے خلاف ردعمل کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پہلے ہی پاکستان کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں لہٰذا اس مشکل کی گھڑی میں تدبر کی ضرورت ہے ورنہ وہاں پاکستان کا کوئی ہمدرد نہیں رہے گا۔

طورخم سرحد پر حالیہ کشیدگی کے اثرات ذرائع ابلاغ اور بالخصوص سوشل میڈیا پر زیادہ نظر آئے جہاں دونوں ممالک کے نوجوان طبقے نے اس معاملے کو ہوا دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

پشاور میں مقیم ایک افغان صحافی عالم زیب شیرزاد کا کہنا ہے کہ جب بھی دونوں ممالک کے مابین سرحد پر کوئی کشیدگی پیش آتی ہے تو اس کا اثر ذرائع ابلاغ میں زیادہ شدت سے محسوس کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں طرف سخت گیر عناصر موجود ہیں جو ہر وقت اس تاک میں رہتے ہیں کہ ایسی کسی حالت کا فائدہ اٹھا کر عوام کے درمیان آگ بھڑکائی جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ افغان شہری پاکستان کو اپنا دوسرا گھر مانتے ہیں اور وہ کبھی پاکستان کا برا نہیں سوچ سکتے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک جنگوں اور دہشت گردی سے بری طرح متاثر رہے ہیں لہٰذا عوام کو امن کی بات کرنی چاہیے کیونکہ دونوں اقوام مزید تلخیوں اور کشیدگی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

اسی بارے میں