حیدرآباد فنڈ پر پاکستان کا دعویٰ درست، انڈیا کی درخواست رد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حیدرآباد تقسیم ہند کے وقت ایک خود مختار ریاست تھی جس پر انڈیا نے 1948 میں فوجی کشی کی

پاکستان میں وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ لندن میں انگلش ہائی کورٹ نے انڈیا کی سابق ریاست حیدر آباد کے تین کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ کے حیدرآباد فنڈ پر پاکستان کے دعوے کے خلاف انڈیا کی درخواست کو رد کر دیا ہے۔

انگلش ہائی کورٹ کے جج ہینڈرسن جے کے 75 صفحات پر مشتمل فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کے اصولی موقف کی توثیق اور پاکستان کی قانونی ٹیم کی موثر عدالتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

انڈیا انگلش عدالت کو یہ باور کرانے میں ناکام رہا کہ پاکستان کا موقف کمزور ہے اور تین کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ پر پاکستان اپنا قانونی حق ثابت نہیں کر سکا جو 20 ستمبر سنہ 1948 سے ہائی کمشنر آف پاکستان کے نام سے بینک میں موجود ہے۔

پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے بی بی سی اردو سروس سے اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ابھی اس فنڈ کے اصل حقدار کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدالت نے ابھی صرف یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس مقدمے میں پاکستان بھی ایک فریق ہے اور اس سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔

حیدرآباد فنڈ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت نظام حیدرآباد نے پاکستان کو ایک لاکھ پاؤنڈ تحفے کے طور پر دیے تھے جو ان کے وزیر خزانہ نے پاکستان کے برطانیہ میں اس وقت کے ہائی کمشنر کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیے تھے۔

واجد شمس الحسن نے کہا جب انھیں ہائی کمشنر مقرر کیاگیا تو انھیں اس بینک اکاؤنٹ کے بارے میں علم ہوا جس پر برطانوی بینک نہ ہونے کے برابر شرح سود دے رہا تھا اور گذشتہ 68 برسوں میں یہ رقم بڑھتے بڑھتے 35 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔

انھوں نے کہا کہ ہائی کمشنر بننے کے بعد انھوں نے وزارت خارجہ سے طویل خط و کتابت کے بعد اس رقم کو حاصل کرنے کے لیے عدالتی کارروائی شروع کی۔

Image caption واجد شمس الحسن نے یہ مقدمہ دائر کیا تھا

واجد شمس الحسن نے کہا کہ ان کے ہائی کمشنر کے عہدے سے علیحدہ ہونے کے بعد پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس مقدمے سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

سابق پاکستان ہائی کمشنر کے مطابق پاکستان کے مقدمے سے علیحدہ ہونے کے بعد نظام کے ورثا اور انڈیا کی حکومت نے اس رقم کے حصول کی کوششیں تیز کردیں لیکن عدالت نے اب اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستان کو مقدمے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کا ایک فریق ہے۔

انگلش جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پاکستان کے دعوے کے حق میں ٹھوس شواہد موجود ہیں جن پر سماعت کے دوران بھرپور طریقے سے غور کیا گیا۔ جج نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے موقف کی حمایت میں قانونی دلائل بھی بہت مضبوط تھے۔

انڈیا کی درخواست رد ہونے کی وجہ سے اسے اب اخراجات کی مد میں بھی بھاری رقم ادا کرنی پڑے گی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی قانونی ٹیم نے جس کی قیادت کوئین کونسل خاور قریشی کر رہے تھے، بہت مضبوط قانونی دلائل دیئے جس کی بنا پر انڈیا کے موقف کو رد کر دیا گیا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی قانونی ٹیم نے اپنے دلائل میں یہ بھی کہا کہ انڈیا اور حیدر آباد کے حکمران یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ پاکستان کا اس پیسے پر دعوی کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔

پاکستان کی ٹیم نے کہا کہ سنہ 1947 اور 1948 میں صورت حال بڑی کشیدہ تھی۔ ریاست حیدر آباد پر جسے جج نے تسلیم کیا کہ وہ اُس وقت ایک خود مختار ریاست تھی، انڈیا کے حملے اور قبضے کا خطرہ تھا اور اس نے پاکستان کو مدد کے لیے کہا۔

برطانوی حکومت کی تاریخی دستاویزات میں یہ بات بھی واضح تھی کہ برطانوی حکام حیدر آباد کی ریاست اور اس کے عوام کی طرف انڈیا کے رویے پرتشویش کا اظہار کر رہے تھے، جس میں حیدرآباد کی ناکہ بندی، اور ریاست کو ادویات اور خوارک کی فراہمی کو روکنا شامل تھا اور ان سب کا مقصد نظام حیدرآباد کو انڈیا میں شامل ہونے پر مجبور کرنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حیدر آباد میں چار مینار بھی ایک تاریخی جگہ ہے

جب قائد اعظم کا انتقال ہوا تو انڈیا نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حیدرآباد پر فوج کشی کر دی اور نظام ہفتم کو زیر نگیں کر لیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان کے حصہ میں آنے والے ہتھیاروں میں سے صرف تین فیصد پاکستان کو ملے۔ اس کے باوجود انڈیا نے جب ریاست جموں و کشمیر پر قبضہ کرنا چاہا تو ایک ایسے تنازع نے جنم لیا جس کے باعث بے شمار جانی نقصان ہوا اور جو اب تک جاری ہے۔

پاکستان نے جو کچھ کیا اس کے زیادہ تر شواہد برطانوی تاریخی دستاویزات سے لیے گئے۔ برطانوی خفیہ اداروں اور برطانوی حکومت کے اُس زمانے کے ریکارڈ میں پاکستان کی طرف سے کی جانے والی مدد کی تفصیلات درج ہیں۔

انڈیا نے ان شواہد کو رد کردیا گو کہ یہ شواہد برطانوی ریکارڈ سے حاصل کیے گئے تھے اور اس بات پر زور دیا کہ نظام ہفتم نے اس پیسے کو منتقل کیے جانے کے چند دن بعد ہی نظام نے اس کی واپسی کا مطالبہ کر دیا تھا۔ جج نے کہا کہ یہ تصور کرنا بالکل بے وقوفی پر مبنی ہو گا کہ انڈیا کے قبضے کے بعد نظام نے یہ مطالبہ اپنی مرضی سے کیا ہو گا۔

اگر معاملے کا عدالت کے باہر تصفیہ نہ ہوا تو یہ مقدمے عدالت کے سامنے پیش ہو گا۔ پاکستان نے جولائی 2015 میں ایک ریٹائرڈ جج لارڈ ہوفمین کے سامنے ثالثی کی پیش کش کی تھی لیکن انڈیا نے یہ کہتے ہوئے کہ پاکستان کا دعوی جھوٹا ہے پاکستان کی پیش کش کو ٹھکرا دیا تھا۔

پاکستان کی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔

انڈیا کے مقتدر جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق حیدر آباد فنڈ جس میں اس وقت 1070940 پاؤنڈ تھے جنھیں لندن میں پاکستان کے پہلے ہائی کمشنر جبیب ابراہیم رحمت اللہ کے نام سےایک بینک اکاونٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں