ہر برس مون سون، ہر برس پانی کے تالاب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں لاہور کی سڑکوں پر اس کے مناظر عام دیکھنے کو ملتے ہیں

پاکستان میں سب سے خوشحال صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بدھ کو بارش ہوتے ہی شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کی خبریں نشر ہونا شروع ہو گئیں۔

اس کے بعد ٹکرز آنے شروع ہوئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے پانی کھڑا ہونے سے متعلق حکام سے رپورٹ مانگی ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ہر برس مون سون کی بارشوں میں ایسی صورتحال رپورٹ کی جاتی ہے۔

2004 میں لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار میں رپورٹر کے طور پر کام شروع کیا تو اتفاق سے پہلے ہی دن لاہور میں مون سون کی شدید بارش ہوئی تو چیف رپورٹر نے اس کی رپورٹنگ کی ذمہ داری دی۔

لاہور کی مصروف شاہراہ مال روڑ کے قریب واقع دفتر سے نکلا تو سڑکوں پر کھڑے پانی سے بارش کی شدت کا اندازہ ہوا اور شہر کے وسط میں واقعہ لکشمی چوک تک پیدل یا موٹر سائیکل کے ذریعے پہنچنا تقریباً ناممکن ہو چکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

راستے میں پانی میں پھنسی گاڑیاں، راہگیر، رکشے وغیر یعنی تقریباً زندگی مفلوج ہو چکی تھی۔ ان سارے آنکھوں دیکھے حال کی رپورٹنگ، شہریوں کی مشکلات اور واسا کے حکام کے موقف کے بعد خبر فائل کر دی۔

اس سے اگلے روز چیف رپورٹر نے اس کی تعریف کرتے ہوئے گذشتہ دو برسوں کے دوران بارشوں کے حوالے سے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں دکھاتے ہوئے کہا کہ ان میں اور تمہاری خبر میں کتنا فرق ہے۔ حالانکہ حیران کن طور پر زیادہ معلومات تقریباً ایک جیسی ہی تھیں کہ’بارش کے بعد پانی کھڑا ہو گیا، شہریوں کی مشکلات، حکام کی بدانتظامی، منصوبہ بندی نہ ہونا اور اس پر واسا کے حکام کا موقف کہ جلد سے پانی کا اخراج ہو جائے گا اور آئندہ برس زیادہ بہتر منصوبہ بندی کریں گے۔

اس پر سینیئر ساتھی نے کہا کہ ’ہمارے ہاں سال ہا سال سے ایسی ہی صورتحال ہے کہ اب اگر کسی پرانے رپورٹر کو کہاں جائے تو دفتر میں رہ کر ہی خبر لکھ دے گا کیونکہ بدلا تو کچھ نہیں۔‘

اب تقریباً 12 برس بعد بدھ کو لاہور میں موسلا دھار بارش کی خبر آئی، بعد میں نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہونے اور اس کے بعد وزیراعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے حکام کو پانی کے اخراج اور اس کے بارے میں فوری آگاہ کرنے کا خبریں آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام ہر برس حالات کو آئندہ مون سون سے پہلے بہتر کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں

جس میں شہریوں کا کہنا تھا کہ گھروں میں لگے سرکاری نلکوں سے صاف پانی کبھی دستیاب نہیں ہوتا لیکن شدید بارش ہو تو دو دو فٹ پانی مکانات کے اندر گھس جاتا ہے۔

اسی طرح تقریباً چار برس پہلے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کی لاہور میں بارش کے بعد جمع ہونے والے پانی میں کھڑے تصویر اخبارات کی زینت بنی جس میں وہ حکام کو پانی کے جلد از جلد اخراج کی ہدایت دے رہے تھے۔

آج پھر وہی خبر، وہ ہی مشکلات، اور وہ ہی کوریج،۔۔۔ فرق اتنا پڑا کہ ایک اہلکار سے بات کی تو اس نے کہا کہ جناب گذشتہ آٹھ برس میں فرق تو بہت پڑا ہے پہلے شدید بارش کے بعد شہر میں پانی آٹھ گھنٹے تک کھڑا رہتا تھا اب یہ دورانیہ کم ہو کر چھ گھنٹے تک رہ گیا ہے۔

خیر لاہوریوں کو کسی بھی صورتحال میں لطف اندوز ہونا خوب آتا ہے۔ ان میں سے ایک جاننے والے سے بات ہوئی تو وہ میٹرو بس کے انتظار میں تھے کہ پلوں پر چلتی بس پر نیچے پانی کے عارضی تالابوں اور ان میں پھنسے ہزاروں افراد کے منظر کو دیکھا جائے کہ کیسا لگتا ہے۔

اسی بارے میں