پاکستان کی پہلی ای عدالت نے کام شروع کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اہم عہدوں پر تعینات سرکاری ملازمین بھی سکائپ کے ذریعے اپنے بیانات ریکارڈ کرا سکیں گے

پاکستان کی پہلی ای کورٹ عدالت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں قائم کردی گئی ہے جس نے بدھ کے روز سے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج سہیل ناصر کو اس عدالت کا پہلا جج مقرر کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز مضاربہ مقدمے میں دو گواہوں کے بیانات سکائپ کے ذریعے قلمبند کیے گئے ہیں ان میں سے ایک گواہ نے صوبہ سندھ کے شہر سکھر سے اپنا نیان قلمبند کروایا جبکہ اسلام آباسے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے رجسٹرار شوکت حسین نے اپنا بیان قلمبند کروایا۔

گواہی قلمبند کروانے سے پہلے عدالت نے گواہوں سے حلف لیا کہ وہ گواہی دینے کے سارھ ساتھ عدالت کے احترام کو محوظ خاطر رکھیں گے۔

اس عدالتی کارروائی کے دوران اس مقدمے میں گرفتار ملزم ارشد پر فرد جرم بھی عائد کی گئی جبکہ گواہوں پر جرح بھی مکمل کر لی گئی۔

ای کورٹ کے عدالت کے ایک اہلکار کے مطابق ویڈیو لنک کے ذریعے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا مقصد نہ صرف زیر التوا مقدمات کو جلد از جلد نمٹانا ہے اس کے علاوہ مختلف مقدمات میں ایسے گواہ جو غریب ہونے کے علاوہ دور دارز کے علاقوں میں رہتے ہیں اور وہ عدالت میں نہیں آ سکتے اُن کے لیے سکائپ کے ذریعے بیانات ریکارڈ کروانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ مختلف اہم عہدوں پر تعینات سرکاری ملازمین جو اپنے فرائص کی وجہ سے عدالتوں میں نہیں آ سکتے، اپنے دفاتر سے ہی ویڈیو لنک کے ذریعے بیانات ریکارڈ کروا سکتے ہیں اور اسی ویڈیو لنک سے ہی اُن پر جرح بھی کی جائے گی۔

اس سے پہلے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں امریکی شہری مارک سہیگل کا بیان امریکہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کروایا تھا۔ اس مقدمے کے گواہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان نہیں آ سکے تھے۔

اس مقدمے کے ملزمان کے وکلا نے ویڈیو لنک کے ذریعے ہی امریکی شہری پر جرح کی تھی۔

ممیمو گیٹ سے متعلق عدالتی تحقیقات کے لیے امریکی شہری منصور اعجاز کا بیان بھی برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن میں ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا تھا تاہم اس وقت اس عدالتی کمیشن کے سیکریٹری بھی پاکستانی ہائی کمیشن میں موجود تھے۔

اسی بارے میں