عبدالقوی رویت ہلال کمیٹی سے معطل، چاند نہیں دیکھ سکیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ NEO TV
Image caption مفتی عبدالقوی پاکستان تحریک انصاف کے مذہبی ونگ کے سربراہ ہیں

پاکستان میں مذہبی امور کے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے سوشل میڈیا کی مقبول شخصیت قندیل بلوچ کے ساتھ تصاویر شائع ہونے کے بعد مفتی عبدالقوی خان کی رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

اس کے علاوہ مفتی عبدالقوی کی مدرسہ تعلیمی بورڈ کی رکنیت بھی معطل کر دی گئی ہے۔

٭ ’مفتی کو عید کا چاند نظر آگیا‘

پاکستان تحریک انصاف کے مذہبی ونگ کے سربراہ اس معطلی کے بعد عید کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے اس واقعہ کی تحقیقات کا بھی حکم دے دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں اس وقت تک مفتی عبدالقوی کی رکنیت معطل رہے گی۔

Image caption قندیل بلوچ کا دعویٰ ہے کہ مفتی عبدالقوی خان نے انھیں اصرار کر کے ہوٹل میں ملاقات کے لیے بلایا تھا اور دورانِ ملاقات نکاح کی پیشکش بھی کی تھی

مفتی عبدالقوی کی معطلی کے بعد رویت ہلال کمیٹی کے ارکان کی تعداد 25 رہ گئی ہے جن کا تعلق ملک کے مختلف علاقوں سے ہے۔

اس کمیٹی میں شامل افراد کو ماہانہ وظیفہ تو نہیں دیا جاتا البتہ جب رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوتا ہے تو اس میں شریک ہونے والے افراد کو رہائش اور کھانا دینے کے علاوہ سفری سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

وزارت مذہبی امور کے حکام نے منگل کے روز قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی رپورٹ وزیر مذہبی امور کو پیش کی تھی جس پر کارروائی کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی کی رکنینت معطل کی گئی ہے۔

سینیٹر حافظ حمداللہ کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی کے اس اجلاس میں مفتی عبدالقوی خان کی قندیل بلوچ کے ساتھ سوشل میڈیا پر تصاویر کے چرچے رہے۔

قائمہ کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عبدالقوی خان کو عید سے پہلے ہی عید کا چاند نظر آگیا ہے۔

اسی بارے میں