’جوتوں کے ڈیزائن چین سے بن کر آتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ others do not share
Image caption شیخ نعیم کے مطابق جوتے کی تیاری کے لیے زیادہ تر سامان چین سے منگوایا جاتا ہے اور یہ ڈیزاین بھی چین سے تیار ہوکر آیا ہے اور مارکیٹ سے بکل کو خرید کر جوتے پر استعمال کیا

’مجھے اس بات کا قطعی طور پر کوئی علم نہیں تھا کہ جو لیڈیز جوتا فروِِخت کیا جارہا ہے اس کے ڈیزائن میں ہندوؤں کے مقدس لفظ ’اوم ‘ ظاہر ہو رہا ہے۔ یہ ڈیزائن مقامی طور پر نہیں بنا بلکہ یہ تر زیادہ چین سے بن کر آتے ہیں۔‘

یہ الفاظ ہیں لاہور میں واقع موتی بازار کے اس دکان کے مالک کے ہیں جس کی دکان سے ٹنڈو آدم سندھ میں وہ جوتے پہنچے جن کے ڈیزائن میں’اوم‘ کا لفظ موجود تھا۔

لاہور کا موتی بازار جوتوں کی فروخت کا ایک بڑا مرکز ہے اور اسی مقام سے ملک بھر میں جوتوں کی ترسیل کی جاتی ہے۔گذشتہ دنوں اندورن سندھ میں ایسے زنانہ جوتے فروخت کیے گئے جن پر ہندوؤں کا مقدس لفظ ’اوم‘ دیوناگری رسم الخط میں ڈیزائن کا حصہ تھا۔

دکان کے مالک شیخ نعیم جو گذشتہ بیس برس سے جوتے کی اسی مارکیٹ میں کاروبار کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ جوتے کے ڈیزائن پر ہندوؤں کا کوئی مقدس لفظ موجود ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’جوتوں کا ڈیزائن خود تیار نہیں کرایا جاتا بلکہ اب یہ تیار کیا ہوا ملتاہے جسے کاریگر جوتے پر لگا دیتے ہے۔‘

پاکستان ہندو کونسل نے متنازع ڈیزائن والے جوتے کی فروخت پر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں ٹنڈو آدم میں یہ جوتا فروخت کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔

شیِخ نعیم کا کہنا ہے کہ انہیں دو روز پہلے ہی اس بات کا علم ہوا۔

شیخ نعیم کے مطابق جوتے کی تیاری کے لیے زیادہ تر سامان چین سے منگوایا جاتا ہے اور یہ ڈیزاین بھی چین سے تیار ہوکر آیا ہے اور مارکیٹ سے بکل کو خرید کر جوتے پر استعمال کیا۔

دکان دار کا کہنا ہے کہ ’مقدس لفظ کے ڈیزائن والے جو تے کی تیاری میں دکاندار یا کارخانے میں کام کرنے والے کاریگر کا کوئی تعلق نہیں ہے یہ ڈیزاین جیسا بنا ہوا تھا اس کو اس طرح استعمال کیا گیا اور ڈیزاین میں کسی قسم کی کوئی رد و بدل نہیں کی گئی۔‘

شیخ نعیم کے مطابق جیسے ہی ان کے علم میں آیا کہ جوتے میں ڈیزاین میں ہندو کا کوئی مقدس لفظ شامل ہے تو انھوں نے اس کی فروخت روک دی بلکہ جوتے کا ڈیزائن بھی تبدیل کردیا ہے۔ ان کے بقول کاریگر کو بھی اس ڈیزائن کے مزید جوتے نہیں بنائے بلکہ متنارع ڈیزائن والے بکل واپس کردیا ہے۔

شیِخ نعیم کا کہناہے کہ آئندہ وہ جوتے کا ڈیزائن منتخب کرتے وقت اس بات کی مکمل احتیاط کریں گے بکل یا ڈیزائن میں کوئی ایس چیز شامل نہ ہو جس سے کسی کے مذہبی جذبات مجروج ہو۔

اسی بارے میں