’رکنیت کو این پی ٹی پر دستخط سے مشروط کرنا درست نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان جوہری اعتبار سے انڈیا سے زیادہ ذمہ دار ملک ثابت ہوا ہے: تسنیم اسلم

پاکستان کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں رکینت کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط سے مشروط کرنا درست نہیں ہے اور پاکستان اس نقطۂ نظر سے متفق نہیں ہے۔

اسلام آباد میں نیوکلئیر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے حوالے سے ہونے والے سیمنار میں ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ (اقوام متحدہ اور اکنامک کوارڈینیشن) تسنیم اسلم نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو پاکستان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

٭این ایس جی: پاکستان کا موقف کتنا مضبوط؟

انھوں نے کہا کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی بھارت کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا تو اُس کے برے نتائج مرتب ہوں گے۔

سیمنار سے خطاب میں تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان گذشتہ 13 برسوں سے این ایس جی کی رکینت کے لیے بین الاقوامی برادری سے رابطے میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں جوہری پلانٹ کی سکیورٹی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کی پوری دنیا معترف رہی ہے اور پاکستان جوہری اعتبار سے انڈیا سے زیادہ ذمہ دار ملک ثابت ہوا ہے۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ ’پاکستان جوہری تجارت کے لیے وضع کردہ رہنما اصولوں پر پورا اترتا ہے اور پاکستان کو بھی نیوکلیئر سپلائرزگروپ کا رکن ہونا چاہیے، اور اُس کے ساتھ امتیاز نہیں برتنا چاہیے۔‘

یاد رہے کہ نیو کلیئر سپلائرز گروپ 1974 میں انڈیا کی جانب سے ایٹمی تجربے کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔

نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی جانب سے سنہ 2008 میں انڈیا’خصوصی رعایت‘ دی گئی تھی۔جس کے ذریعے بھارت پر گذشتہ تین دہائیوں سے سول نیو کلیئر تجارت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی تھی۔

یہ پابندی ختم ہونے کے بعد انڈیا سویلین نیوکلیئر ایندھن اور ٹیکنالوجی خرید سکتا ہے۔ انڈیا کو یہ خصوصی مراعات دینے میں امریکہ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ 2008 میں انڈیا کو ملنے والی رعایت کے بعد سے انڈیا کے جوہری آلات اور ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور بھارت کو ملنے والی خصوصی رعایت سے جوہری پھیلاؤ بڑھا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا نے نیو کلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بننے کی درخواست دے رکھی ہے۔

پاکستان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کو متنبہ کیا ہے کہ کسی خاص ملک کو اس کی رکنیت سے دور رکھنے کی مخصوص شرائط جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہیں۔

اسی بارے میں