پاکستانی، انڈین قیدی رہائی کے منتظر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان اور ہندوستان میں امن کےفروغ کے لیے سرگرم سول سوسائٹی کی تنظیم ’آغازِ دوستی‘ کی طرف سے حال ہی میں پاکستان اور انڈیا کی مختلف جیلوں میں پابندسلاسل شہریوں کی ایک فہرست جاری کی گئی ہے جس کے مطابق 321 پاکستانی اور چار سو سے زائد انڈین شہری مختلف جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

آغاز دوستی کے بانی رہنما روی نتیش کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک میں قید زیادہ تر شہری معمولی نوعیت کے جرائم میں قید ہیں جبکہ ان میں بیشتر اپنی سزائیں بھی پوری کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی۔

٭ پاکستانی لڑکی سے عشق کی قیمت 16 سال

آغاز دوستی پشاور چیپٹر کے صدر عبدالرؤف یوسفزئی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کی تازہ فہرست کے تحت کل 278 پاکستانی قیدی انڈیا کے مختلف جیلوں میں بند ہیں، جن میں سے 251 سول مقدمات کے تحت گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ 27 ماہی گیر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح 405 انڈین شہری بھی پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید ہیں جن میں 355 ماہی گیر اور 48 سول نوعیت کے کیسوں میں گرفتار ہیں جبکہ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

ان کے مطابق پاکستانی قیدیوں میں سو سے زائد قیدیوں کے مقدمات زیر سماعت ہیں جبکہ 55 قیدی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں لیکن انھیں ابھی تک رہائی نہیں ملی۔

انھوں نے مزید کہا کہ دونوں جانب بیشتر قیدی اپنی سزائیں پوری کر چکے ہیں لیکن پڑوسی ممالک کے کشیدہ تعلقات ان کی رہائی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

عبدالرؤف یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ پاک انڈیا حکام اکثر اوقات بعض قیدیوں کی قومیت جان بوجھ کرظاہر نہیں کرتے جس کی وجہ سے ایسے قیدیوں کے کیس سالوں تک لٹکے رہتے ہیں اور وہ بلاوجہ پسِ زنداں رہتے ہیں۔ انھوں نے دونوں پڑوسی ممالک سے اپیل کی کہ دونوں طرف قیدیوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں اور ان قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے جو اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ آغاز دوستی ہندوستان اور پاکستان کے نوجوانوں پر مشتمل سول سوسائٹی کی تنظیم ہے جو دونوں ممالک میں امن کے فروغ اور قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔

اسی بارے میں