پاکستانی مارکیٹ سے پاؤنڈ اور یورو غائب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شہزاد چامڑیا کے مطابق برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں کمی سے پاکستان کے بازار حصص پر کوئی فرق نہیں پڑ سکتا

برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کی خبر کے بعد سے پاکستان کی کرنسی مارکیٹ سے پاؤنڈ اور یورو مکمل طور پر غائب ہوچکے ہیں۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز افواہیں تھیں کہ پاؤنڈ کی قیمت میں اضافہ ہوگا جس کی وجہ سے لوگوں نے کل بڑی تعداد میں پاؤنڈ خریدا جو گذشتہ روز 156 پر بند ہوا تھا۔

’اب جن افراد نے 156 روپے پر پاؤنڈ خریدا ہے وہ 145 پر نہیں بیچیں گے اس لیے انھوں نے ذخیرہ اندوزی کر لی ہے اس امید پر کے جلد ہی پاؤنڈ کی قیمت میں بہتری آئے گی۔‘

انھوں نے بتایا کہ آج صبح برطانوی پاؤنڈ گر کر 140 روپے پر آگیا تھا مگر کیونکہ کوئی بیچنے ہی نہیں آیا تو قیمت میں کچھ اضافہ ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ ڈالر کے ساتھ شرح تبادلۂ کے حساب سے اس وقت برطانوی پاؤنڈ 139 روپے کا ملنا چاہیے۔

ظفر پراچہ کے مطابق یورو بھی 120 روپے سے گرکر 115 روپے پر آگیا ہے تاہم نہ کوئی بیچ رہا ہے نہ خرید رہا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے فیصلے کا اثر پاکستان کے بازارِ حصص پر بھی پڑا اور اور ہنڈرڈ انڈیکس جمعے کے روز 848 پوائنٹس کمی کے ساتھ بند ہوا۔ مجموعی طور انڈٰیکس میں دو اعشاریہ دو فیصد کی کمی ہوئی۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کی خبر کے ساتھ ہی سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی اور ایک موقع پر انڈیکس میں چودہ سو پوائنٹس کی کمی آئی تاہم دن کے اختتام تک سرمایہ کاروں کا اعتماد کچھ بحال ہوا اور انڈیکس 37389 پر بند ہوا۔

آخر برطانیہ کے اس فیصلے کا پاکستان کے بازارِ حصص پر اثر کیوں ہوا؟ اس بارے میں شہزاد چامڑیا سیکیوریٹیز کے چیئرمین شہزاد چامڑیا کا کہنا ہے کہ ’بنیادی طور پر برطانیہ کے فیصلے کا اثر تیل کی قیمتوں پر پڑا تھا جو یک دم پچاس ڈالر سے کم ہوکر 46 ڈالر فی بیرل پر آگئی تھیں۔ جس کی وجہ سے پاکستانی کی منڈی جس میں تیل اورگیس کا ایک بڑا حصہ ہے متاثر ہوئی، دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے بازارِ حصص میں تقریباَ َ سات ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری موجود ہے جو براہِ راست اس سے متاثر ہوتی ہے اور اس کا اثر مقامی سرمایہ کاروں پر بھی پڑتا ہے اور وہ منافع حاصل کرنے کی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔‘

تاہم ان کے خیال میں بازارِ حصص نے کچھ زیادہ ہی پریشانی دکھائی حالانکہ اس کا برطانیہ سے کوئی بلاواسطہ تعلق نہیں ہے اسی لیے آخر میں کچھ بہتری آئی اور منفی چودہ سو سے کم ہوکر منفی ساڑھے آٹھ سو پر بند ہوا۔

البتہ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی منڈیوں میں اس کے اثرات جاری رہے تو پھر پاکستان کی منڈی بھی کچھ حد تک متاثر ہوگی۔

شہزاد چامڑیا کے مطابق برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں کمی سے پاکستان کے بازار حصص پر کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔

اسی بارے میں