وفاقی وزیر کے سرکاری محافظ نے چار افراد کو قتل کردیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ریاستی اور سرحدی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ کی سکیورٹی پر تعینات اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے مکان خالی کراونے کی رنجش پر اندھا دھند فائرنگ کر کے چار افراد کو ہلاک کردیا۔

ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہیں بعد ازاں پولیس اہلکار نے خود کو گولی مار زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

یہ واقعہ بدھ اور جعمرات کی درمیانی شب اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں پیش آیا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقے بہاولپور کا رہائشی محمد محمود جو اسلام آباد پولیس کے انسداد دہشت گردی سکواڈ میں تعینات تھا، کو سرحدی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبد القادر کی ذاتی سکیورٹی کے سکواڈ میں شامل کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ محمد محمود وفاقی وزیر کے ساتھ ایک تقریب میں سکیورٹی کی ڈیوٹی ادا کر رہے تھے کہ اس دوران ہی وہ اپنے ساتھی پولیس اہلکار کو بتا کر چلا گیا کہ وہ کسی ضروری کام کے سلسلے میں جارہا ہے لہٰذا متعقلہ وزیر کو اس بارے میں آگاہ کر دیں۔

سب ڈویژنل پولیس افسر عارف شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم پولیس یونیفارم میں گل نثا نامی شخص کے گھر گیا اور کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہاں سے چلاگیا۔

اُنھوں نے کہا کہ محمد محمود کچھ دیر کے بعد دوبارہ آیا اور گل نثا کے گھر میں داخل ہوتے ہی سرکاری بندوق سے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور ایک تین سالہ کا بچہ بھی شامل ہے۔

ڈی ایس پی عارف شاہ کے مطابق اس واقعے کے بعد پولیس اہلکار نے خود کو گولی مار لی۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس اہلکار نے گل نثا سے ہی بارہ کہو میں کرائے پر مکان لیا تھا جہاں پر اس کے بیوی بچے رہائش پذیر تھے تاہم دو ماہ قبل مقتولہ نے پولیس اہلکار سے مکان خالی کروا لیا تھا۔

پولیس افسر کے بقول بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملزم کو مکان خالی کروانے کا رنج تھا۔ پولیس نے ابھی تک اس واقعے کا مقدمہ درج نہیں کیا تاہم لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں بھجوا دیا ہے۔

اسی بارے میں