جعلی دستاویزات، وزارتِ داخلہ کے افسر کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے برطانیہ کی جیل میں قید پاکستانی کو باقی ماندہ سزا پاکستان میں کاٹنے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے میں وزارتِ داخلہ کے سیکشن افسر اور مذکورہ قیدی کو بالترتیب 23 سال اور 14سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔

سپیشل جج سینٹرل ملک نذیر نے جمعے کو اس مقدمے کا فیصلہ سنایا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں وزارت داخلہ کے سیکشن افسر کو آٹھ لاکھ روپے جبکہ قیدی قمر عباس گوندل کو تین لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی ہے۔

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق وزارتِ داخلہ کے سیکشن افسر علی محمد جعلی دستاویزات تیار کروا کر برطانوی عدالت سے سزا پانے والے پاکستانی قمر عباس گوندل کو نہ صرف واپس پاکستان لے کر آئے بلکہ کچھ عرصے کے بعد انھیں جیل سے رہا بھی کروا دیا۔

اہلکار کے مطابق مجرم محمد علی تھائی لینڈ اور دیگر ممالک سے بھی جعلی دستاویزات کے ذریعے متعدد پاکستانیوں کو نہ صرف پاکستان واپس لائے بلکہ انھیں کچھ عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد رہا بھی کروا دیا۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ کے متعدد اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا جس کے بعد اب بھی متعدد اہلکار جیل میں ہیں تاہم سیکشن افسر علی محمد نے جعلسازی کے اس مقدمے میں ضمانت کروا رکھی تھی۔

وزارت داخلہ کے حکم پر جن پاکستانیوں کو دیگر ممالک کی مختلف جیلوں سے جعلی دستاویزات پر وطن واپس لایا گیا تھا ان میں سے کچھ افراد کو دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے جب کہ ان میں سے اکثریت بیرون ممالک فرار ہو چکی ہے۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق قمر عباس گوندل ان مجرموں میں سے ہیں جنھیں رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔

جب عدالت نے یہ فیصلہ سنایا تو اس وقت وزارتِ داخلہ کے سیکشن افسر کمرۂ عدالت میں موجود تھے تاہم عدالتی فیصلے کے بعد اُنھیں کمرۂ عدالت سے گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

اسی بارے میں