’ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر قبائلیوں کی مراعات بند‘

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ نے اجتماعی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے اور شدت پسندوں کی نشاندہی نہ کرنے پر دو قبیلوں کی تمام مراعات بند کر دی ہیں۔

حکام کے مطابق تحصیل یکہ غنڈ میں قاسم خیل قبیلے کے دو اقوام کڈو کور اور بھائی کور قبائل کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ فصلوں کی کاشت اور کٹائی پر بھی پابندی کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

صحافی انور شاہ کے مطابق یہ فیصلہ تحصیل یکہ غنڈ میں پولیٹکل انتظامیہ اور قاسم خیل قبیلے کے درمیان ہونے والے ایک جرگہ میں ہوا جس میں اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ نوید اکبر سمیت دیگر عہدیداروں اور قاسم خیل قبلیے کے مشران نے شرکت کی۔

اس حوالے سے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ نوید اکبر نے بتایا کہ علاقے میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے ذمہ داری ان لوگوں کی بنتی ہے کہ وہ شدت پسند اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں۔

ان کے مطابق قاسم خیل قبیلے نے ایف سی آر قانون کے تحت اپنی اجتماعی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں اور تین ہفتے قبل دو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث مجرمان کی نہ تو نشاندہی کی اور نہ ہی انھیں اتنظامیہ کے حوالے کیا اس وجہ سے ان پر یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اگر واقعے میں ملوث مجرمان کو انتظامیہ کے حوالے کیاجائے تو یہ پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر غلنئی میں قبائل اور پولیٹکل انتظامیہ کے درمیان ایک جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں انتظامیہ کی جانب سے قبائل کو ایک ماہ کی مہلت دی گئی تھی کہ مہمند قبائل شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کی نشاندہی کر کے انھیں حکومت کے حوالے کر دیں اور اگر کسی نے بھی شدت پسندوں کو رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کیں تو وہ بھی شدت پسند تصور کیے جائیں گے اور انھیں بھی شدت پسند جتنی سزا دی جائے گی۔

خیال رہے کہ یہ جرگہ ایک ایسے وقت میں بلایا گیا تھا جب علاقے میں روزانہ کی بنیاد پر امن کمیٹیوں اور سیکورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا تھا۔

اسی بارے میں