کراچی پولیس میں 20 ہزار بھرتیاں کی جائیں گی: نثار

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کراچی میں امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے پولیس میں 20 ہزار نئی بھرتیاں کی جائیں گی جن میں سے دو ہزار سابق فوجی اہلکار لیے جائیں گے۔

انھوں نے یہ بات پیر کے روز پنجاب ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس میں نئی بھرتیوں اور ٹریننگ میں فوج معاونت کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے کی بازیابی اور امجد صابری کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ خفیہ ادارے بھی متحرک ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہونے والے ان واقعات کو بنیاد بنا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جس طرح اسلام آباد میں رہنے والے افراد کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا ہے اسی طرح کراچی میں رہنے والے افراد کا ڈیٹا اکھٹا کرنے پر بھی جلد کام شروع کردیا جائے گا۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر عمل درآمد اور اس کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔

پیر کے روز پنجاب ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس ضمن میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج اس منصوبے پر سکیورٹی کے فرائص انجام دے رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اُنھوں نے کہا کہ جس طرح چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاکستان کے لیے اہم ہے اسی طرح ملک دشمن خفیہ ادروں کو بھی یہ منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے اور اس پر کام کرنے والے افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

چوہدری نثار علی خان نے پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مخالف خفیہ ایجنسوں کے اہلکار ملک میں اور ملک سے باہر پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اور کچھ پاکستانی ان ایجنسیوں کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ان خفیہ ادروں کے اہلکار گرفتار کیے جا رہے ہیں جو اپنی کارروائیوں کا اعتراف بھی کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سہولت کاروں کے خلاف بھی اسی طرح کارروائی کی جا رہی ہے جس طرح دہشت گردوں کے خلاف کی جاتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں بھتہ خوری کے لیے زیادہ تر بین الاقوامی کالیں پاکستان کے دو مسلمان ہمسایہ ممالک سے آ رہی ہیں جن کے سدباب کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ فیڈرل کرائم ڈیٹا بیس ادارہ قائم کیا جا رہا ہے جہاں پر پورے ملک میں ہونے والے جرائم کی تفصیلات روزانہ کی بنیاد پر اکھٹی کی جائیں گی اور اس سے خفیہ اداروں کو کارروائیاں کرنے میں معاونت ملے گی۔

اسی بارے میں