کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کا احتجاج

Image caption مظاہرے کے شرکاء نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

منگل کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے اس مظاہرے میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کے علاوہ خواتین بھی شریک تھیں۔

یہ مظاہرہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ ، غفور بلوچ، رمضان بلوچ اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کیا گیا۔

مظاہرے میں شریک ایک خاتون نے بتایا کہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو 28جون 2009کو ضلع خضدار کے علاقے اوورناچ کے سرکاری ہسپتال سے مبینہ طور پر ریاستی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر دین محمد کے علاوہ بی این ایم کے رہنما غفور بلوچ کو تین اپریل2009 کو کوئٹہ جبکہ رمضان بلوچ کو 14جولائی 2010کو لاپتہ کیا گیا۔

مظاہرے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ ان کی بازیابی کے لیے کوئٹہ سے اسلام آباد تک طویل لانگ مارچ بھی کیا گیا لیکن تاحال ان کو منظر عام پر نہیں لایا گیا۔

مظاہرے کے شرکاء نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں لیکن ان کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہا۔

انھوں اس حوالے سے حقوق انسانی کی تنظیموں کے علاوہ میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم کے علاوہ بعض دیگر بلوچ قوم پرست جماعتوں کا یہ کہنا ہے کہ بلوچستان سے ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے تاہم اس کے برعکس سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ان کی تعداد ڈیڑھ سو سے دو سو کے لگ بھگ ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق بعض تنظیمیں ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے اس مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں