’برآمد کنندگان کو خدشات ہیں، لندن سے وضاحت‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو برطانیہ کے یورپی اتحاد سے علیحدگی کے بارے میں خدشات ہیں اور انھوں نے اس سلسلے میں لندن سے وضاحت طلب کی ہے۔

بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں ریفرینڈم کے فیصلے کا پاکستان پر اقتصادی اثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یورپی اتحاد کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کی جو سہولت دی گئی تھی وہ جاری رہے گی کیونکہ برطانیہ کے یورپ سے الگ ہونے میں دو سال کا وقت لگ سکتا ہے۔

’ہم نے اپنے ایکسپورٹروں سے کہا ہے کہ جب تک یہ عمل (علیحدگی کا) آگے نہیں بڑھتا، فی الوقت جی ایس پی پلس جاری رہے گا۔ زیرو ریٹنگ بدستور جاری رہے گی۔‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چونکہ برطانیہ میں سیاسی ابہام بھی ہے اس لیے برطانوی ٹریڈ آفس سے واضح جواب موصول نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت پاکستان کی برطانیہ کو برآمدات سے متعلق ایک جامع تجزیے کا اہتمام بھی کرے گی۔

خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ جو بات ان کے لیے سب سے زیادہ قابل تشویش ہے وہ یہ ہے کہ پاؤنڈ سٹرلنگ کی قدر میں قابل ذکر کمی آئی ہے۔ اس سے برطانیہ سے امپورٹ کرنے والوں کے لیے مسئلہ ہو سکتا ہے کیونکہ اب پاکستان سمیت پوری دنیا برطانیہ کے لیے قدرے مہنگی ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ سوموار کو وزارت خارجہ میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے جب برطانوی ریفرینڈم کے پاکستان پر اثرات پر سوال کیا گیا تو انھوں نے اس کا جواب گول کر دیا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ ان کی تیاری نہیں تھی۔

اسی لیے بعد میں اس صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وزارت نے برطانیہ اور یورپی اتحاد کے درمیان معاہدوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس کا کتنا فائدہ اٹھایا ہے خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ اپنی صلاحیت کے مطابق اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ ’2013 کے مقابلے میں اب یورپ کی پاکستان کی برآمدات میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اندازاً دو ارب یورو بنتے ہیں۔ یہ ایک صحت مند اضافہ تھا۔‘

امیگریشن سے متعلق کسی بڑی تبدیلی کے بارے میں ان کہنا تھا کہ ریفرینڈم نے امیگریشن کے خلاف جذبات ابھارے ہیں۔ ’ابھی یہ سب قبل از وقت ہے لیکن برطانیہ میں مقیم لوگ بےیقینی کی صورت حال سے دوچار ہیں۔ جب نئے وزیر اعظم آئیں گے اور اپنے پروگرام کی وضاحت کریں گے تو صورت حال واضح ہوگی ورنہ یہ تعصب والا ماحول بنا ہوا ہے، جو درست نہیں۔‘

اسی بارے میں