’ہمارے مسلم ہمسائے ہمیں نفرت سے دیکھتے ہیں‘

رینا بمبوریت میں اپنے گھر سے ایک گھنٹہ دور، ایون میں رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد یہاں آ گئی تھیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو کو انٹرویو دینے سے انکار کیا۔

دوپٹے میں چہرہ چھپائے، ہری آنکھوں میں پریشانی کے ساتھ انھوں نے کہا ’میں نے جو کہنا تھا، وہ پریس کانفرنس میں کہہ دیا۔ اور کچھ نہیں کہنا۔‘

٭ ’میں نے مرضی سے اسلام قبول کیا‘

اور وہ پریشان کیوں نہ ہو۔ جب رینا نے بمبوریت کے واحد لڑکیوں کے مدرسے میں جا کر کلمہ پڑھا، اس کے بعد ہونے والے واقعات نے کیلاش وادی میں خوف پھیلا دیا۔ کیلاش اور مسلمان برادری کے درمیان رینا کے مذہب تبدیل کرنے پر ایسا تنازع کھڑا ہوا کہ کیلاش کی یہ خاموش وادی گولیوں کی آوازوں سے گونج اٹھی۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک رہائشی نے بتایا کہ کیلاشیوں کے گھروں کے پاس ہجوم جمع ہوا۔ ’وہ لوگ ختم کرو، مارو کے نعرے لگا رہے تھے۔ اور اب ہمارے مسلم ہمسائے ہمیں نفرت سے دیکھتے ہیں۔‘

اس روز کے مناظر انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی ویڈیو میں ہیں، جس میں بھگدڑ مچ رہی ہے اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے فائرنگ کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر ولی خان کیلاشی نے اس روز کے بارے میں بتایا ’ہم چند ہزار تھے اور پوری مسلم کمیونٹی تھی۔ ان کے پاس کیا کیا تھا، کس کو ختم کرنا چاہ رہے تھے، ان کے کیا جذبات تھے۔ ہم کس کا انتظار کریں گے، پولیس کا، یا فوج کا؟‘

ڈاکٹر ولی کیلاش برادری کے واحد ڈاکٹر ہیں اور رینا کے چچا بھی۔ ان کے اپنے ایک بھائی نے اسلام قبول کیا ہوا ہے اور دونوں اکٹھے رہ رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں واقع کیلاش برادری کے خاتمے کی باتیں تو بہت عرصے سے ہو رہی ہیں۔ کئی خداؤں پر یقین رکھنے والے کیلاشی لوگوں کی زبان اور رسم و روایات بالکل الگ ہیں۔ یہ افغانستان کی سرحد کے قریب مشرقی چترال کے پہاڑوں کی تین وادیوں میں رہتے ہیں اور ان کی تعداد تین سے چار ہزار بتائی جاتی ہے۔

یہاں مسلمان اور کیلاشی صدیوں سے مل جل کر رہ رہے ہیں۔ لیکن اس واقعے کے بعد اب کیلاش برادری اپنے آپ کو معمول سے زیادہ غیر محفوظ تصور کر رہی ہے۔

رینا کی عمر سولہ یا سترہ سال بتائی جا رہی ہے۔ ہنگامے کے واقعے کے بعد انھوں نے پریس کانفرنس میں کیلاش اور مسلم برادریوں کو تسلی دینے کی کوشش کی، تاکہ وادی میں رینا کے مذہب تبدیل کرنے سے پیدا ہونے والا تناؤ کم ہو جائے۔ رینا نے کہا کہ ’نہ میں نے زبردستی مذہب تبدیل کیا تھا اور نہ ہی میرے والدین نے اسے زبردستی کیلاشی مذہب دوبارہ اپنانے کو کہا۔‘

تاہم، جس مدرسے میں رینا نے کلمہ پڑھا، وہاں کی استانی سراج البنات کے بقول مذہب تبدیل کرتے وقت والدین سے اجازت نہیں لی جاتی۔ سراج البنات نے علاقے کا واحد لڑکیوں کا مدرسہ دس سال قبل قائم کیا اور یہاں کبھی کبھار مذہب تبدیل کرنے کے لیے کیلاشی بچے اور بچیاں آتے ہیں۔

جب میں نے سراج لبنات سے پوچھا کہ کیا کم عمر رینا کے والدین سے مشاورت کی گئی، تو انھوں نے کہا نہیں۔ ’وہ ہمارے پاس خود آئی تھی۔ ہم نے بھی اس کے والدین سے نہیں پوچھا تھا۔ کیلاش کافر ہیں، اچھی بات کہ وہ مسلمان ہو جاتے ہیں۔‘

ڈاکٹر ولی کو خدشہ ہے کہ حالیہ ہنگامے سے مسلمان اور کیلاشی برادریوں کے درمیان ایک مستقل دراڑ پڑگئی ہے۔ ایک اقلیت ہونے کے ناطے مزید تشدد سے خوف زدہ ہیں۔ ’ہمیں لوگوں سے دھمکیاں آتی ہیں لیکن کوئی سامنے نہیں آتا۔ جو مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے، وہ کرے ، لیکن صاف طریقے سے۔ ہم کسی کو روک نہیں سکتے۔ ہم اپنے علاقے میں خون خرابہ نہیں چاہتے۔‘

لیکن جو کیلاشی مسلمان ہو جاتے ہیں، کئی اپنے خاندان کے ساتھ خوشی خوشی بھی رہتے ہیں، جیسے کہ 16 سالہ ثانیہ مرزا۔ جب میری ان سے ملاقات ہوئی، تو وہ اپنی والدہ کے ساتھ روایتی کیلاشی سلائی سیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ لیکن انھیں سلائی میں دلچسپی نہیں تھی کیونکہ وہ پروفیسر بننا چاہتی ہیں۔

ثانیہ نے چھ سال کی عمر میں مذہب تبدیل کیا اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ’تو کیا ہوا اگر ہم ساتھ رہ رہے ہیں۔ کیلاش ہوں یا مسلمان ہوں، ہیں تو آخر انسان۔ بس مجھے اسلام پسند ہے اور یہ کیلاش ہیں۔ انشا اللہ یہ بھی مسلمان ہو جائیں گے۔‘

ڈاکٹر ولی کا کہنا ہے کہ انھیں لگتا ہے کہ دس پندرہ سالوں میں پوری کیلاشی برادری مذہب تبدیل کر لے گی۔ ’جس طرح کے حالات ہو رہے ہیں، ڈر لگتا ہے کہ کیلاش کا نام و نشان مٹ جائے گا۔‘

اس بار مقامی انتظامیہ نے معاملہ کچھ حد تک سنبھال لیا ہے۔ لیکن لوگوں میں خوف ہے کہ ملک کے بعض دوسرے علاقوں کی طرح، مذہب کے نام پر شورش کہیں اس وادی تک مستقل طور پر نہ پہنچے۔

اسی بارے میں