امتیازی سلوک کی شکایت واپس لینے پر زور

Image caption پاکستان میں ہندو برادری اقلیت میں ہے اور زیادہ تر ہندو صوبہ سندھ میں رہتے ہیں

پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان سے وابستہ ہندو صحافی کا کہنا ہے کہ اُن پر دباؤ ہے کہ ہندو ہونے کی وجہ سے امیتازی سلوک سے متعلق وہ اپنا بیان واپس لیں۔

کراچی میں کام کرنے والے ہندو صحافی صاحب خان کا الزام ہے کراچی میں اُن کے بیورو چیف کو جب یہ پتہ چلا کہ اُن کا تعلق ہندو برادری سے ہے تو انھیں الگ برتن میں کھانے پینے کے لیے کہا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صاحب خان نے بتایا ’ یہ واقعہ ایک مہینے قبل پیش آیا لیکن جب سے رمضان آیا ہے حالات زیادہ بگڑ گئے ہیں۔ دفتر میں میری میز کے ساتھ افطار کے لیے ٹیبل لگائی گی ہے مگر جب میرے ایک دوست نے افطار کے وقت مجھے کھانے کے لیے بلایا تو بیورو چیف نےکہا نہیں اسے اسی کی میز پر کھانا دے دو۔‘

صاحب خان کا کہنا ہے کہ انھیں اس رویے پر کافی شرمندگی محسوس ہوتی، جس سے بچنے کے لیے وہ افطار سے پہلے ہی دفتر سے نکل جاتے۔

صاحب خان کے مطابق ’دفتر میں زیادہ تر لوگ نہیں جانتے تھے کہ میں ہندو ہوں کیونکہ میں اپنے نام کے ساتھ خان لگاتا ہوں۔ جب ایک دن میرا بیٹا میرے ساتھ دفتر آیا اور میں نے راج کمار کا تعارف سب سے کرایا تو انھیں معلوم ہوا کہ ہم ہندو ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اگلے ہی دن میرے بیورو چیف پرویز اسلم نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور کہا کہ میں اپنے کھانے پینے کے برتن الگ کر لوں۔ میں نے پوچھا کیوں تو وہ بولے بس آپ اسے چھوڑیں، جائیں اپنا کام کریں۔‘

صاحب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنا بیان واپس لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ HS SODHA
Image caption پاکستان میں ہندؤ برادری کا کہنا ہے کہ اُن سے امتیازی سلوک برتا جاتا ہے

انھوں نے کہا کہ ’جب سے یہ خبر اخبار اور میڈیا پر آئی ہے تب سے میرے اوپر بیورو چیف دباؤ ڈال رہے ہیں کہ میں بیان واپس لے لوں۔دو دن پہلے اس سلسلے میں جب چند میڈیا کے لوگ میرا اور ان کا انٹرویو کرنے آئے تو اسے کے بعد انھوں نے مجھے چار گھنٹے اپنے دفتر میں بٹھائے رکھا اور کہا کہ میں کاغذ پر لکھ کر دوں کہ میرے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوا۔ ‘

صاحب خان کے مطابق ’میں نے کہا اگر وہ معافی مانگ لیں تو میں لڑنا نہیں چاہتا کیونکہ میں کمزور ہوں مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب جھوٹ ہے کیونکہ ایسا ہوا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اے پی پی کراچی کے بیورو چیف پرویز اسلم نے امتیازی سلوک کے بیان کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا ادارہ ان بے بنیاد الزامات کی تفتیش کر رہا ہے۔ ’میں پہلے سے جانتا تھا کہ وہ ہندو ہیں اور جب یہ اسلام آباد سے کراچی منتقل ہوئے تو میں نے تو انھیں چند دن اپنے گھر بھی ٹھہرایا تھا۔‘

دوسری جانب کراچی یونین آف جرنلسٹ نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کی مکمل تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں