سوات: روپوش شدت پسندوں کی گرفتاری میں مدد پر انعام

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سات روپوش شدت پسندوں کی سروں کی قیمت فی کس دس لاکھ روپے مقرر کی ہے۔

تحصیل کبل کے مختلف علاقوں میں مختلف مقامات، بازاروں، مساجد اور مقامی مقامات پر ایسے پوسٹر چسپاں کیے گئے ہیں جس میں سات روپوش شدت پسندوں کے نام، تصاویر اور پتہ درج ہے۔

صحافی انور شاہ کے مطابق یہ پوسٹرز اردو اور پشتو زبان میں شائع کیے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان شدت پسندوں کے بارے میں اطلاع دینے والوں کو دس لاکھ روپے انعام دیا جائے گا اور ان کے نام بھی پوشیدہ رکھے جائیں گے۔

پوسٹر میں یہ بھی تحریر ہے کہ ’سوات کا امن تباہ کرنے اور معصوم لوگوں کے قتل میں ملوث ان دہشت گردوں کی شکلوں کو پہچان لو اور ان میں سے کسی بھی کے متعلق اطلاع دینے والے کو دس لاکھ روپے انعام ملے گا۔‘

ان شدت پسندوں میں محب عرف عرفان سکنہ برہ بانڈی، قادر عرف یاسین استاد ساکن کوزہ بانڈی، علی سبحان عرف معاذ عرف فرمان عرف عباس سکنہ غوریجہ ،زاہد حسین قاری سکنہ ڈھیری، اسحاق عرف صابر عرف سواتے سکنہ کوئے شموزئی، ریحان علی سکنہ غوریجہ، محمد زمان عرف احمدی سکنہ ننگولئی شامل ہیں۔

پوسٹر میں روپوش شدت پسندوں کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات اور اطلاع دینے کے لیے آرمی کے ہیلپ لائن نمبر کے علاوہ برہ بانڈی کے یونٹ کا نمبر بھی دیاگیا ہے۔

خیال رہے کہ سوات میں حالیہ کچھ عرصے سے شدت پسند کارروائیوں میں اضافے کے بعد سکیورٹی انتظامات نہ صرف سخت کر دیے گئے ہیں بلکہ گذشتہ روز سیاحتی علاقے مالم جبہ میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران دو شدت پسندوں کو بھی ہلاک کیا تھا۔

اسی بارے میں