گرمی اور پابندی کا توڑ سڑک پر اجتماعی غسل

حیدرآباد شہر کے بیچوں بیچ تین نہریں گزرتی ہیں۔ پھلیلی، پنیاری اور اکرم واہ۔

گرمیوں کے موسم میں لوگ ان میں نہاتے بھی ہیں۔ حکام نے نہانے کے دوران ہونے والی اموات کے نتیجے میں ایک ماہ کے لیے نہروں میں نہانے پر ہی پابندی عائد کر دی لیکن لوگ اس پابندی کے باوجود بھی نہاتے ہیں۔

حیدر آباد سے صحافی علی حسن کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے ایک گروہ نے شہر کے بیچ ایک محلے پنجرہ پول میں سڑک پر اجتماعی غسل کے لئے ایک جھرنا لگا لیا۔

سب ہی چھوٹے بڑے کھلے عام اس نہانے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ گلی میں دونوں طرف مکانات ہیں، دوکانیں ہیں۔ موٹر سائیکلیں اور گاڑیوں چلتی ہیں لیکن لوگ ہیں کہ نہا رہے ہیں۔

اس منظر کو دیکھنے کے لیے لوگ بھی جمع ہیں۔ ایک ساتھ درجنوں لوگ بیچ سڑک نہا رہے ہیں۔ سب ایک جھرنے کے نیچے کھڑے ہیں۔ میں نے ایک صاحب سے سوال کیا کہ کیا ضرورت پیش آگئی کہ اس طرح اجتماعی غسل کا انتظام کیا گیا۔

ان کا جواب تھا کہ ’گرمی شدید ہے، روزہ ہے، بجلی موجود نہیں ہے۔ گھروں میں بیٹھا نہیں جاتا۔ اس لیے شاور لگا لیا ہے۔ سب ہی نہا رہے ہیں۔ بچے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘

سڑک پر لگائے گئے جھرنے کے لیے پائپ لائن کے پانی کی بجائے زیر زمین پانی استعمال کیا جارہا ہے۔ اس پانی کو موٹر کو کھینچنے کے لیے باقاعدہ جنریٹر استعمال کیا جاتا ہے۔

بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے پانی کی فراہمی کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے اس لیے پائپ لائن کا پانی تو میسر ہی نہیں ہوتا ہے۔ نہانے سے لطف اندوز ہونے والے لوگ کہتے ہیں کہ زیر زمین پانی پائپ لائن کے پانی کے مقابلے میں ٹھنڈا ہوتا ہے۔ جسم کو راحت ملتی ہے۔

حکام کو چاہئے تھا کہ نہروں میں نہانے پر پابندی عائد کرنے کی بجائے نہانے کے عمل کو محفوظ بناتے تاکہ جانی نقصان نہیں ہوتا۔

لیکن عوام نے بھی اس پابندی کا حل خوب ڈھونڈا اور سڑک پر ہی اجتماعی غسل سے لطف اندوز ہونے کا طریقہ ایجاد کر لیا۔

اسی بارے میں