چترال سیلاب: 16 لاشیں مل گئیں، امدادی کام جاری

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے ضلع چترال میں حکام کے مطابق سنیچر کی شب آنے والے سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والے 16 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں جبکہ علاقے میں امدادی کام جاری ہیں۔

خیبر پختونخوا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے چترال میں قائم کنٹرول روم کے اہلکاروں نے بی بی سی اردو کے شیراز حسن کو بتایا ہے کہ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 29 ہے۔

٭ ’12 افراد کی لاشیں بہہ کر افغانستان پہنچ گئیں‘

٭ چترال میں سیلاب اور زلزلہ زدہ علاقے بحالی کے منتظر

پی ڈی ایم اے کے مطابق مرنے والوں میں 21 مرد، دو خواتین اور چھ بچے شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام افراد سیلابی پانی میں بہہ گئے تھے اور ان میں سے 16 کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ دیگر 13 کی تلاش جاری ہے جن میں سے نو مرد اور چار بچے شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

خیال رہے کہ افغان حکام نے اتوار کو بتایا تھا کہ ان میں سے 12 افراد کی لاشیں بہہ کر افغان صوبے کنڑ میں پہنچ گئی تھیں جنھیں پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

چترال کنٹرول روم کے اہلکاروں کے مطابق سیلاب میں جو آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے ان میں سے تین کی لاشیں تاحال برآمد کی جا سکی ہیں۔

خیال رہے کہ سنیچر کی شب چترال کے علاقے ارسون میں دو گھنٹے تک جاری رہنے والی تیز بارش کے بعد آنے والے سیلابی ریلے سے ایک مسجد، سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ سمیت متعدد مکانات بہہ گئے تھے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق چترال میں 35 مکان مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ 47 کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈپٹی کمشنر چترال کے مطابق علاقے میں سیلاب کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے جبکہ متاثرہ علاقے دور افتادہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات بھی درپیش ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں فوج کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور اس حوالے سے آئی ایس پی ار کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں متاثرین کو کھانا ، خیمے ، کمبل اور ادویات فراہم کر دی گئ ہیں جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی کے مطابق حکومت نے امدادی سرگرمیوں کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے جاری کیے ہیں جس میں سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو تین تین جبکہ زخمیوں کو ایک ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال بھی چترال میں بارشوں کے بعد سیلاب آیا تھا جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسی بارے میں