ڈھاکہ حملہ: ’پاکستان پر الزام غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل و صورت میں مذمت کرتا ہے

پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارتی میڈیا میں ڈھاکہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کی خبروں کو انتہائی قابل افسوس، غیرذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے انھیں بےبنیاد قرار دیا ہے۔

’پولیس کیفے پر حملہ کرنے والوں کو جانتی تھی‘دوراہے پر کھڑا بنگلہ دیش

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں ان الزامات کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے مشیر پروفیسر گوہر رضوی نے اپنے ایک بیان میں بھارتی میڈیا کی اس خبر کی تردید کی تھی جس میں انھیں یہ کہتے ہوئے بتایا گیا کہ اس حملے میں پاکستان ملوث ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خبر سے بھارتی میڈیا کے عزائم واضح ہوتے ہیں۔

پروفیسر رضوی نے بنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمشنر سے رابطہ کر کے بھی وضاحت کی کہ انھوں نے پاکستان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا ہے اور یہ کہ بھارتی خبر غلط ہے۔ انھوں نے پاکستانی ہائی کمشنر کو یہ بات حکومت پاکستان تک پہنچانے کی ہدایت بھی دی تھی تاکہ دونوں حکومتوں کے درمیان غلط فہمی پیدا نہ ہوسکے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان پروفیسر رضوی کی فوری تردید کا خیرمقدم کرتا ہے۔

پاکستان پہلے ہی ڈھاکہ میں حملے کی مذمت کرچکا ہے اور بنگلہ دیشی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کرچکا ہے۔

بیان میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل و صورت میں مذمت کرتا ہے۔ خود دہشت گردی کا شکار ہونے والے ملک کے ناطے پاکستان پروفیسر رضوی کے اس بیان کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں انھوں نے دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی بات کی ہے۔

اگرچہ انڈیا میں میڈیا میں پاکستان مخالف خبریں اکثر نشر ہوتی رہتی ہیں لیکن وزارت خارجہ کے اس بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اس خبر پر خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔

اسی بارے میں