’مانگتا ہوں اسی سے جو دیتا ہے خوشی سے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other

کان پھاڑ دینے والا دھماکہ۔ دھواں، گرد، ہوا میں اڑتا ملبہ، انسانی اعضا۔ تھوڑی دیر کے لیے خاموشی اور چند منٹ بعد سائرن بجاتی، تیزی سے موڑ مڑتی، سفید کیری سوزوکی گاڑیاں جائے وقوع پر پہنچتی ہیں، جیسے کہ وہ اگلی گلی میں اسی واردات کا انتظار کر رہی تھیں۔

تربیت یافتہ عملہ پھرتی سے اتر کر زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو اس مہارت سے سٹریچروں پر ڈال کر ایمبولینسوں میں منتقل کرتا ہے جیسے وہ سالہاسال سے سے بس یہی کام کرتا چلا آیا ہو۔

٭ عبدالستار ایدھی کی زندگی تصاویر میں

یہ دنیا کی سب سے بڑی نجی ایمبولینس سروس ایدھی فاؤنڈیشن کا عملہ ہے اور اس کا ہزاروں افراد پر مشتمل عملہ واقعی کئی عشروں سے یہی کام کر رہا ہے۔

چاہے دہشت گرد حملے ہوں، ٹریفک حادثات ہوں یا پھر قدرتی آفات، یہ ہر جگہ ہر وقت عام طور پر سرکاری اداروں سے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔

1957 میں ایک پک اپ سے شروع ہونے والی امدادی سروس اب دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بن چکی ہے۔ ایدھی انفارمیشن بیورو کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ان کے امدادی مراکز کی تعداد 335 ہے۔ سیلاب اور سمندری حادثات کے موقعے پر امداد فراہم کرنے کے لیے 28 کشتیاں اور عملہ اس کے علاوہ ہے۔ اس کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن ایئر ایمبولینس کی خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہی نہیں بلکہ ملک کے بڑے شہروں میں کل 17 ایدھی ہومز ہیں، جن کے علاوہ ایدھی شیلٹرز، ایدھی ویلج، ایدھی چائلڈ ہوم، بلقیس ایدھی میٹرنٹی ہوم، ایدھی اینیمل ہاسٹل، ایدھی فری لیبارٹری، ایدھی فری لنگر بھی کام کر رہے ہیں۔

دو جوڑے ملیشیا کے

اتنے بڑا امدادی نظام کا تانا بانا چلانے والے عبدالستار ایدھی کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔ ان کے پاس ملیشیا کے سستے ترین کپڑے کے صرف دو جوڑے کپڑے تھے، ایک میلا ہو جاتا تو وہ دوسرا پہن لیتے۔ وہ کہتے تھے کہ ’میں نے اصول بنایا کہ زندگی بھر سادگی رکھوں گا اور کپڑے ایک قسم کے پہنوں گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وہ اپنی اہلیہ بلقیس ایدھی کے ساتھ ایدھی فاؤنڈیشن کے دفتر سے متصل دو کمروں کے فلیٹ میں رہتے تھے، جس میں کسی قسم کی پرتعیش اشیا کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

ایدھی گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، لیکن انھوں نے نہ تو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی پیشکش قبول کی اور نہ ہی کبھی بھی کسی دورِ حکومت میں ملک کے سربراہ کی جانب سے کوئی فنڈ قبول کیا۔

جون 2016 میں ایدھی کی طبیعت جب بہت زیادہ خراب ہوئی تو سابق صدر آصف علی زرداری نے انھیں بیرون ملک علاج کروانے کی پیشکش کی جو انھوں نے مسترد کر دی اور کہا کہ میں پاکستانی ہسپتالوں ہی میں علاج کراؤں گا۔

غم میرے استاد ہیں

ایدھی 1928 میں بھارتی ریاست گجرات کے علاقے جوناگڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 11 سال کے تھے کہ ان کی والدہ کو فالج ہو گیا جس سے ان کا دماغ بھی متاثر ہوا۔

کمسن ایدھی نے اپنے آپ کو والدہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ ان کو نہلانا، کپڑے بدلوانا، کھانا پلانا، یہ ایدھی نے اپنے ذمے لے لیا، جس نے آگے چل کر انھیں فلاحی کاموں کی جانب راغب کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایدھی نے رسمی تعلیم تو ہائی سکول تک بھی حاصل نہیں کی، تاہم وہ کہتے تھے کہ ’دنیا کے غم میرے استاد اور دانائی و حکمت کا ذریعہ رہے۔‘

والدہ کی وفات کے بعد انھوں نے لوگوں کی مدد کے لیے رابطے کا ذریعہ بنانے کے بارے میں سوچا۔ ان کا خواب تھا کہ ضرورت مندوں کے لیے فلاحی مراکز اور ہسپتال قائم کیے جائیں۔ یہ کام بہت بڑا تھا اور ایدھی کی عمر کم اور وسائل ناپید۔ لیکن ایدھی کو یہ کرنا تھا، چاہے اس کے لیے لوگوں سے بھیک تک کیوں نہ مانگنا پڑتی۔

جب پاکستان بنا تو وہ چھٹے دن ہی یہاں آ گئے۔ اول اول انھوں نے ٹھیلے اور پھیری لگا کر کام شروع کیا پھر کراچی کی ہول سیل مارکیٹ میں کپڑوں کے ایجنٹ بن گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’مجھے بیوی بہت اچھی ملی۔‘ عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی

چند سال بعد انھوں نے یہ کام چھوڑ دیا اور 20 سال کی عمر میں اپنی میمن برادری کے افراد کی مدد سے مفت طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک ڈسپنسری قائم کی۔ یہی سوچ انھیں ایدھی ٹرسٹ قیام کی جانب لے گئی۔

ان کے ایک دوست حاجی غنی عثمان صاحب نے اس کام میں ان کی مدد کی۔ ان سے ملنے والے پیسوں سے انھوں نے دو ہزار کی ایک گاڑی لی، ایک ڈسپنسری بنائی، اور ایک خیمے کے اندر چار بستروں کا ہسپتال قائم کیا۔

صرف میمن کا کام نہ کرو

ایدھی نے ڈرائیونگ سیکھ کر اس گاڑی کو ایمبولینس بنا دیا۔ وہ کہتے ہیں: ’میں نے زندگی میں کبھی کوئی اور گاڑی نہیں چلائی، 48 سال تک صرف ایمبولینس چلائی۔‘

وہ رات کو شادیوں پر جا کر برتن دھوتے تھے، دودھ بیچتے تھے، اخبار فروخت کرتے تھے۔ بعد میں انھوں نے یہ کہہ کر اپنی خدمات سب کے لیے وقف کر دیں کہ ’میمن کا کام نہ کرو، تمام انسانیت کا کام کرو۔‘

ایدھی اپنی ایمبولینس میں دن بھر شہر کا چکر لگاتے رہتے اور جب بھی کسی ضرورت مند یا زخمی شخص کو دیکھتے، اسے فوراً امدادی مرکز لے جاتے۔

ایدھی کے مطابق پہلی عوامی اپیل پر دو لاکھ چندہ اکٹھا ہوا۔ وہ کہتے تھے کہ ’یہ میری نیت نہیں تھی کہ میں کسی کے پاس جا کر مانگوں، بلکہ میں چاہتا تھا کہ قوم کو دینے والا بناؤں، پھر میں نے فٹ پاتھوں پر کھڑا رہ کر بھیک مانگی، تھوڑی ملی، لیکن ٹھیک ملی۔‘جلد ہی لوگ بقول شاعر لوگ آتے گئے اور کارواں\ن بنتا گیا۔

ایدھی مراکز کے علاوہ کراچی میں ایدھی ایمبولینس سروس اور بچوں اور ماؤں کے لیے پناہ گاہ بھی قائم کر لی گئی۔

مولوی بےدین کہتے ہیں تو کہنے دو

اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’میں نے کبھی کسی کی نہیں سنی، ہمیشہ اکیلا رہا۔ اب بچے اور بیوی ہیں، ورنہ پہلے کوئی نہیں تھا، سرمایہ دار، مذہبی طبقے نے اور سرمایہ دار نے سب نے میرا بائیکاٹ کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’مارو نہیں، جھولے میں ڈال دو‘

ایدھی کہا کرتے تھے کہ پیدا ہونے والے بچے کو ناجائز مت کہو۔ ’جو بچہ پیدا ہوا وہ آپ کا جائز بچہ ہے، ٹھیک ہے، مولوی مجھے بےدین کہتے ہیں، کہنے دو۔‘

ہر ایدھی سینٹر کے باہر ایک جھولا موجود ہوتا ہے۔ ایدھی صاحب اپنے پیغام میں کہا کرتے تھے: ’مارو نہیں، جھولے میں ڈال دو، میں کچھ نہیں کہوں گا۔ اپنے بچے کو کبھی بھی کوڑے میں مت پھینکو، قتل کرنا بند کرو، بچے کو ایدھی کے جھولے میں ڈال دو۔‘

اپنی دن بھر کی مصروفیات کے باوجود ایدھی ہوم میں پرورش پانے والے یتیم بچوں کے لیے عبدالستار ایدھی کچھ وقت ضرور نکالتے تھے۔ بچوں کے ساتھ ہنسی مذاق اور کھیل ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اس ایدھی ہوم میں وہ ان بچوں کے نانا کہلاتے تھے۔

نوبیل انعام کی ضرورت نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایدھی اولڈ ہوم میں ایک بےسہارا خاتون

ایدھی کو 20 سے زائد قومی و بین الاقوامی اعزازات ملے۔ انھیں پاکستان میں نشانِ امتیاز، لینن امن ایوارڈ اور پاکستان ہیومن رائٹس کی جانب سے ایوارڈ سمیت متعدد نجی اداروں کی جانب سے اعزازی ڈگریاں اور اعزازات سے نواز گیا۔

اس کے علاوہ گنیز ورلڈ ریکارڈز میں ان کا نام دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس چلانے کے باعث شامل ہے۔

نوبیل امن ایوارڈ کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے ہمیشہ کہا کہ ’نوبیل انعام ملے تو ٹھیک ہے نہ ملے تو بھی ٹھیک ہے۔ اس قوم کے لوگوں نے مجھے اتنا کچھ دیا ہے کہ مجھے نوبیل انعام کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں