حکومتِ سندھ نے بالاخر ایس ایس پی کا تبادلہ کر دیا

Image caption ایس ایس پی جنوبی ڈاکٹر فاروق کو عدالت کی سخت برہمی کا سامنا کرنا پڑا

سپریم کورٹ کے حکم پر بالآخر حکومت سندھ نے ایس ایس پی جنوبی کراچی ڈاکٹر محمد فاروق کا تبادلہ کر دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کے اغوا کے بعد وزیر اعلیٰ نے ایس ایس پی ڈاکٹر فاروق کا تبادلہ کیا تھا لیکن صوبائی وزیر داخلہ نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

عدالت نے ایس ایس پی کے طرز عمل کی تحقیقات کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں زیر سماعت کراچی بدامنی کیس کے فیصلوں پر عمل درآمد کیس میں پیر کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے کے اغوا کا معاملہ حاوی رہا۔

ایس ایس پی جنوبی ڈاکٹر فاروق کو عدالت میں طلب کیا گیا جنھیں عدالت کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ڈاکٹر محمد فاروق سے سوال کیا کہ وہ کب سے پوسٹنگ پر ہیں؟

ڈاکٹر محمد فاروق نے انھیں بتایا کہ وہ گذشتہ ایک سال سے ایس ایس پی جنوبی تعینات ہیں۔ عدالت نے ان سے دریافت کیا کہ اویس شاہ کے اغوا کی پہلی اطلاع کس وقت موصول ہوئی تھی؟ انھوں نے جواب دیا کہ پولیس مددگار ون فائیو پر دن کو ڈھائی بجے اطلاع ملی تھی لیکن انھیں افطار کے وقت آگاہ کیا گیا تھا۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے ڈاکٹر محمد فاروق سے سوال کیا کہ جب انھیں معلوم ہوا تو کیا انھوں نے آئی جی، سی سی پی او یا ڈی آئی جی کو آگاہ کیا، جس پر ایس ایس پی نے کہا کہ افطار کے وقت اور ایک پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی وجہ سے وہ آئی جی یا سی سی پی او کو اطلاع فراہم نہیں کر سکے۔

اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا: ’آپ آئی جی کو اپنا باس سمجھتے ہیں نہ ہی سی سی پی یا ڈی آئی جی کو۔ پھر آپ کو وردی میں رہنے کا کیا حق ہے اور اس پوسٹ پر رہنے کا کیا جواز ہے؟‘

جسٹس امیر ہانی مسلم نے ایس ایس پی ڈاکٹر محمد فاروق سے معلوم کیا کہ جب انھیں پہلی اطلاع ملی تو انھوں نے کبھی کنٹرول روم یا تھانے کا وزٹ کیا اور یہ چیک کیا کہ اویس شاہ کے بارے میں کتنی کالز آئی تھیں اور اس کی روشنی میں کیا کارروائی کی گئی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے صاحبزادے ایڈووکیٹ اویس شاہ گذشہ ماہ کراچی کے متمول علاقے کلفٹن میں واقع ایک سپر سٹور کے باہر سے غائب ہوگئے تھے

ڈاکٹر محمد فاروق کے قابل اطمینان جواب نہ دینے پر عدالت نے انھیں کہا کہ ’ آپ نے نہ صرف مجرمانہ غفلت کی ہے بلکہ آپ اس جرم میں سہولت کار ہیں، پھر آپ کو تحقیقاتی کمیٹی میں رہنے اور وردی میں رہنے کا کیا جواز ہے؟‘

جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ جب ہائی پروفائل کیس میں آپ کا رویہ ایسا ہے تو دیگر مقدمات میں کیسا ہوتا ہو گا: ’اگر کوئی بڑا آدمی اغوا ہو تو کارروائی کریں گے اور اگر کوئی غریب اغوا ہو تو کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔‘

عدالت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سے دریافت کیا کہ وزیر اعلیٰ نے ایس ایس پی جنوبی کو ہٹانے کا جو حکم جاری کیا تھا وہ کیا تھا؟

آئی جی نے انھیں بتایا کہ 22 جون کو وزیر اعلیٰ نے ایس ایس پی فاروق کو ہٹانے کا حکم جاری کیا، جس پر انھوں نے وزیر داخلہ کو نوٹ شیٹ لکھ کر بھیجی لیکن وزیر داخلہ نے ایس ایس پی ڈاکٹر فاروق کو چارج چھوڑنے سے روک دیا، جس وجہ سے وہ ابھی تک وہاں تعینات ہیں۔

جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ جب تک آئی جی کو کراچی میں تبادلوں اور تعیناتیوں کے مکمل اختیارات نہیں مل جاتے، کراچی میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی وہ وزیراعلیٰ سے معلوم کریں کہ ایس ایس پی ڈاکٹر محمد فاروق کو ہٹایا جائے ورنہ وہ حکم جاری کریں گے اور آئندہ صوبے میں پولیس افسران کے جو بھی تبادلے ہوں گے اس میں آئی جی کی مشاورت لازمی ہو گی۔

چیف سیکریٹری نے یقین دہانی کرائی کہ ایس ایس پی ڈاکٹر محمد فاروق کا تبادلہ کر دیا جائے گا۔

عدالت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سے دریافت کیا کہ جب وہ ایڈیشل آئی جی کراچی تھے اس وقت جو غیر قانونی تارکین وطن موجود تھے ان کے بارے میں انھیں کتنی معلومات ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہے۔

Image caption آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے عدالت کو بتایا کہ انھیں کوئی اندازہ نہیں کہ کراچی میں کتنے غیرقانونی تارکینِ وطن موجود ہیں

آئی جی کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں۔

جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ یہ کسی کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کی نقل و حرکت کو دیکھیں، وہ کس قانون کے تحت پورے ملک میں نقل و حرکت کرتے ہیں، کس طرح کاروبار کرتے اور املاک بناتے ہیں، بطور ایجنسی یہ پولیس کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق شہر میں 20 لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکین وطن موجود ہیں۔

عدالت نے پیرول پر ملزمان کی رہائی کی پالیسی سمیت دیگر تمام تفصیلات بھی طلب کر لیے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ قتل اغوا جیسے سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان محمد خان، جنید الرحمان انصاری، خالد عزیز اور عبدالرشید کو کس طرح رہائی ملی؟

جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ عدالتیں سزائیں دیتی ہیں اور آپ لوگ انھیں رہا کردیتے ہیں۔

عدالت نے سابق ہوم سیکریٹری نیاز عباسی، سابق ڈائریکٹر پیرول اور کمیٹی کے اراکین کے بارے میں تحقیقات کا حکم جاری کیا اور نیاز عباسی کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔

عدالت نے آئی جی کو یہ بھی حکم جاری کیا کہ 30 جون تک کتنے مقدمات دائر ہوئے، ان میں کتنی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، کتنے مقدمات چالان کیے گئے اور کتنے مقدمات ابھی تک حل نہیں ہوسکے، ان کی تفصیلات پیش کی جائیں۔

اس کے بعد سماعت 15 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں