’پانچ جولائی 1977 کو شدت پسندی کا بیج بویا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پانچ جولائی 1977 کو پاکستان میں جمہوریت کا گلہ گھونٹ کر ملک میں فرقہ واریت، جبر، علاقائیت اور دہشت گردی کا بیج بویا گیا تھا۔

پانچ جولائی 1977 کو اس وقت کی فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کرتے ہوئے نوے دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کیا تھا۔

سید خورشید شاہ نے اس دن کی مناسبت سے ایک بیان میں کہا کہ پانچ جولائی کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور اس روز رات کی تاریکی میں ایک آمر نے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ آج اس ڈکٹیٹر کا نام منافقت، ظلم و جبر اور دہشت گردی کے مساوی سمجھا جاتا ہے۔

٭ کافر فیکٹری

٭ ضیا زندہ ہے

٭ دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم

٭ ایم آر ڈی کی یاد گار تصاویر

٭ تاریخ میں ایم آر ڈی کا ذکر کیوں نہیں؟

قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ اس ڈکٹیٹر کے بوئے ہوئے بیجوں کا کڑوا پھل بطور قوم ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ہمارے سیاسی، انتظامی اور آئینی ڈھانچے کو درست کرنے میں اس قوم کو دہائیوں انتظار کرنا پڑا لیکن قوم گواہ ہے کہ ڈکٹیٹر ضیاالحق کے تباہ کن اقدامات کا مکمل ازالہ آج بھی ممکن نہیں ہو سکا۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ آمریت جس روپ میں بھی ہو وہ در اصل استعماری قوتوں کی آلہ کار ہوتی ہے اور اس کے نزدیک قومی اور ملکی مفاد کی حیثیت ہمیشہ ثانوی رہی ہے۔

سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ضیا الحق نے ملک کو استعماری قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے رکھا، اس کے وسائل کو ان کے حق میں استعمال کیا اور سیاچن گلیشیئر پلیٹ میں رکھ کر دشمن کے حوالے کیا مگر غیروں کے مفاد کی جنگ میں اپنے ملک اور اپنے خطے کی پرواہ تک نہ کی۔

انھوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان کیلیے خدمات ناقابل فراموش ہیں لیکن ان کا یہ کارنامہ کہ انھوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد رکھ کر قوم کو بھارت کے خوف سے آزاد کیا، ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جاتا رہے گا۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ تاریخ کا انصاف یہ ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نام آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے قاتل کا نام لیوا آج کوئی نہیں۔

اسی بارے میں