تقاریر سے حملوں پر اکسایا جا رہا ہے: رینجرز

رینجرز
Image caption رینجرز کے جانب سے دیا جانے والا اشتہار

پاکستان کے صوبہ سندھ میں تعینات رینجرز نے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی بیرون ملک قیادت کی اشتعال انگیز تقاریر اور بیانات کراچی شہر کے امن کے لیے چیلنج بن گئے ہیں۔

رینجرز کے ترجمان نے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ ان تقاریر سے ایک ’خاص گروہ‘ اور طلبہ کو اکسایا جارہا ہے کہ وہ ریاستی اداروں، صحافتی اداروں، تاجروں اور فنکاروں پر حملے کریں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے عناصر جو کراچی میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں رینجرز ان کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

’جن افراد کو دھمکیاں دی جاتی ہیں ان کو بھرپور سکیورٹی دی جائیگی اور تمام شاپنگ سینٹرز میڈیا ہاؤسز کو بھی خصوصی سکیورٹی دی جا رہی ہے۔‘

رینجرز نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مشکوک افراد کی گرفتاری کے لیے سکیورٹی اداروں کی مدد کریں اور ایسے عناصر کے اطلاع رینجرز مددگار لائن پر دیں۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے تنظیم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کو مبینہ طور پر چندہ جمع کرنے کی اجازت نہ ملنے پر رینجرز پر دو روز قبل شدید تنقید کی تھی۔

Image caption ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے رینجرز پر الزام لگایا ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی تنظیم کے فلاحی ادارے کو چندہ دینے سے روک رہی ہے

الطاف حسین نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایم کیوایم نے اپنی صفوں سے چوروں، بھتہ خوروں، چائنا کٹنگ اور زمینوں پر قبضہ کرنے والے جرائم پیشہ عناصر کو نکالا تو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے بعض افسران نے ان جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کی، انھیں کراچی اور حیدرآباد میں کروڑوں روپے مالیت کے بنگلوں میں ٹھہرایا تاکہ ایم کیوایم کو ختم کیا جا سکے۔‘

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ٹیلی ویژن کے بعض متعصب اینکر پرسنز بھی ایسے عناصرسے ملے ہوئے ہیں جو کراچی میں امن عامہ کا تذکرہ کرکے یہاں مزید سخت ایکشن کی باتیں کرتے ہیں لیکن انھیں بلوچستان، فاٹا، لاہور، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں پانی و بجلی کی چوری، اغواء کی وارداتیں، خواتین کا قتل اورغریب کسانوں پر مظالم دکھائی نہیں دیتے۔

الطاف حسین نے کہا کہ ڈی جی رینجرز بلال اکبر نے ایم کیو ایم دشمنی میں ہمارے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کو گزشتہ سال سے زکاۃ، فطرہ اور قربانی کی کھالیں جمع نہیں کرنے دیں جو پاکستان میں ایدھی سینٹر کے بعد سب سے بڑا فلاحی ادارہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب کالعدم جہادی تنظیموں کے لوگ کھلے عام چندہ جمع کر رہے ہیں لیکن ر ینجرز کے اہلکار ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انھیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں