ڈی آئی خان: ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مظاہرے، سڑکیں بلاک

تصویر کے کاپی رائٹ epa

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں عید کے دو دنوں میں تین افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

بدھ کو شاہد عباس شیرازی کے قتل کے بعد جمعرات کو مقامی سطح پر لوگوں نے لاش سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں مکمل فوجی آپریشن کیا جائے۔

شاہد عباس شیرازی کو گذشتہ روز شام کے وقت مریالی کے علاقے میں نامعلوم افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جب وہ اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ یونیورسٹی روڈ پر خرید و فروخت کر رہے تھے۔

مقامی لوگوں نے کے مطابق شاہد شیرازی کو پانچ گولیاں لگیں۔

شاہد عباس شیرازی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے وکیل تھے اور پشاور سے اپنے آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہو گئے تھے۔

جمعرات کی صبح سے مقامی لوگوں اور اتحاد بین المسلمین نے ڈیرہ اسمعیل خان سے دیگر شہروں کو جانے والے تمام راستے احتجاجاً بلاک کر کے لاش ڈیرہ بنوں روڈ پر لے آئے، جہاں حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی گئی۔

ڈیرہ بنوں روڈ، ڈیرہ ملتان روڈ، ڈیرہ ژوب روڈ اور میانوالی کی طرف جانے والے راستوں کو مختلف مقامات پر بلاک کر دیا گیا تھا۔

مقامی انتظامیہ کے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات پہلے مرحلے میں ناکام رہے لیکن دوسرے دور میں مظاہرین کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف فوجی آپریشن میں مزید تیزی لائی جائے گی۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں کالعدم تنظیموں کے خلاف مکمل فوجی آپریشن کیا جائے اور ایپکس کمیٹی کا اجلاس فوری طور پر طلب کر کے ڈیرہ اسماعیل خان کی صورتحال پر کوئی بہتر منصوبہ بندی کی جائے۔

اس کے علاوہ مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ پشاور کی طرز پر ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اور فوج کی مشترکہ چوکیاں قائم کی جائیں۔

سکیورٹی حکام اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ابھی جاری تھے کہ اس دوران یہ اطلاع پہنچی کہ عید گاہ روڈ پر دو افراد کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد بھائی تھے اور ان کا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل سے بتایا گیا ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ دونوں بھائی بازار سے دوائی لینے جا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈیرہ اسماعیل خان میں گذشتہ تین ماہ میں ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے جن میں زیادہ تعداد اہل تشیع کی تھی۔ ان میں پانچ وکیل، ایک پروفیسر، تین پولیس اہلکار اور دو اساتذہ شامل تھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن تحسین علمدار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پڑھے لکھے لوگوں اور ایک ہی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن مقامی انتظامیہ بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی سی سی ٹی وی فٹیج دستیاب ہے لیکن انھیں گرفتار نہیں کیا جا رہا۔

تحسین علمدار کے مطابق انھوں نے ڈیرہ سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رہنما اور صوبائی وزیر اعلیٰ امین گنڈہ پور سے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے اور قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ علی امین گنڈہ پور نے عمران خان سے رابطہ کیا جس کے بعد عمران خان نے وزیر اعلیٰ کو ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے وفاقی حکومت اور گورنر سے رابطہ کرنے کا کہا ہے۔

اسی بارے میں