’نوبیل انعام کا ایدھی سے زیادہ حقدار کوئی نہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں پوری دنیا میں اس انعام کا عبدالستار ایدھی سے زیادہ حقدار کوئی نہیں ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی کے انتقال کے بعد بی بی سی اردو کے عادل شاہ زیب سے بات کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ وہ ایدھی صاحب کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کر چکی ہیں۔

٭ ایدھی کا انتقال: ایک روزہ سوگ، سرکاری سطح پر تدفین

٭’مانگتا ہوں اسی سے جو دیتا ہے خوشی سے‘

٭ ’انسانیت کے سب سے بڑے خدمت گار سے محروم ہوگئے‘

٭ عبدالستار ایدھی کی زندگی تصاویر میں

عبدالستار ایدھی جمعے کی شب کراچی میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے اور دنیا بھر سے ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد انھیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا ’امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے کے ناطے میرے پاس حق ہے کہ میں نوبیل کے لیے نامزدگی دے سکتی ہوں اور میں نے عبدالستار ایدھی کو نامزد کیا۔‘

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایدھی صاحب نے جو خدمات سرانجام دی ہیں اس کے لیے امن کا نوبیل انعام بہت کم ہے۔‘

خیال رہے کہ ملالہ یوسفزئی کو امن کا نوبیل انعام ملنے کے موقع پر بھی پاکستان میں یہ بحث چھڑی تھی کہ ایدھی اس انعام کے زیادہ حقدار تھے۔

ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ انھوں نے انسانیت کی خدمت کی اور اپنی ساری عمر اس میں صرف کر دی۔

’ایدھی صاحب نے ایک تاریخ چھوڑی ہے کہ انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے اور یہ ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اگر ہم ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو ان کے راستے پر چلیں۔‘

ملالہ کا مزید کہنا تھا کہ حالات کے پیش نظر ان کی ملاقات ایدھی سے نہیں ہو سکی تاہم کئی بار فون پر بات ضرور ہوئی تھی۔ ’بہت عزت اور فخر کی بات ہے کہ مجھے ان سے بات کرنے کا موقع ملا۔‘

اسی بارے میں