سوشلستان: ’کیا اب ملا بھی رپورٹنگ کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سوشلستان میں یہ ہفتہ بہت بھاری تھا اور عید کے باوجود دنیا بھر کی طرح پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی عراق چھایا رہا پہلے کرادہ میں ہونے والے حملے اور اس کے نتیجے میں 250 سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور بعد میں چلکوٹ رپورٹ کی وجہ سے مگر ہمارے سوشلستان میں کچھ اور کہانیاں بھی نمایاں رہیں۔

’شاہ کے شاہ سے زیادہ وفادار‘

سعودی عرب میں اوپر تلے ایک ہی دن میں تین دہشت گردی کے واقعات پر سعودی حکام ٹوئٹر پر حملوں کے بارے میں خبریں اور معلومات حسب معمول جاری کرتے رہے۔

مگر پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر چند علما نے یہ ذمہ داری اپنے اوپر لی کہ وہ پاکستانی عوام کو یہ اہم خبر اپنے انداز میں فراہم کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

آپ چشمِ تصور میں اس صورتحال کا اندازہ کریں کہ ایک جانب ایک مولانا کو ایک ٹی وی چینل نے لائیو لیا جس پر انھوں نے بتایا کہ یہ ’معمولی سا کوئی سلینڈر پھٹا ہے کوئی بڑی بات نہیں‘ جبکہ ایک اور مولانا نے کہا کہ ’مسجدِ نبوی سے کوسوں دور شارٹ سرکٹ ہوئی ہے جس سے آگ لگی‘۔

اب سوشل میڈیا اور کیمرے والے موبائل فونوں کے دور میں اس قسم کے دعوؤں کو رد کرنے کے لیے فوری سینکڑوں ٹویٹس، تصاویر حتیٰ کہ ویڈیوز سامنے آئیں۔

اور ان دعوؤں کے تابوت میں آخری کیل سعودی وزارتِ داخلہ نے ٹھونکی جنھوں نے فوراً تصدیق کی کہ مسجدِ نبوی کے باہر خودکش حملہ تھا، جدہ کے امریکی قونصلیٹ کے باہر بھی خودکش حملہ تھا۔

مگر اس سے قبل کی گئی غلط بیانی کا اثر یہ ہے اُس دن سے اب تک بی بی سی اردو کے سوشل میڈیا پیجز پر لوگ انھیں علما کی باتیں دہرا رہے ہیں اور سعودی حکام کی کہی بات کو رد کر رہے ہیں۔

جہاں ٹوئٹر پر صارفین نے اسے ’شاہ سے زیادہ شاہ کے پاکستانی وفاداروں‘ سے تشبیہ دی وہیں ایک صارف نے چوٹ کی ’اب پاکستانی نیوز چینلز پر ملا بھی رپورٹنگ کریں گے۔‘

نجانے ان گالیوں اور ان کی بنیاد بننے والے ’کارِخیر‘ کا ثواب کس کے حصے میں آئے گا کیونکہ ’جن کی وفاداری میں احباب نے خبر ایجاد کی تھی انھوں نے ہی پانسہ پلٹ دیا‘۔

المختصر رمضان کا مہینہ پاکستانی علما کے لیے خبروں سے بھر پور رہا، جس کے دوران مفتی عبدالقوی اور قندیل بلوچ کا معاملہ پیش آیا اور اس کا ڈراپ سین مفتی منیب کی رویت ہلال کمیٹی کی لائیو نشریات میں ہوا۔

جونو مشتری کے مدار میں، رویتِ ہلال کمیٹی چاند کے تعاقب میں

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بدھ چھ جولائی سائنسی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے جہاں ایک جانب ناسا کا خلائی جہاز جونو مشتری کے مدار میں کامیابی سے داخل ہوا وہیں پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی کو چاند کی شہادتیں ملنے، نہ ملنے پر چیئرمین سیخ پا ہو کر پریس کانفرنس سے چلے گئے۔

اب یہ بظاہر دو مختلف واقعات ہیں مگر انھیں موضوع بنا کر سوشل میڈیا پر بحث ہوتی رہی۔

اس بحث کے نمایاں موضوعات یہ تھے کہ اس جدید دور میں جب آپ اگلی دہائیوں کے چاند اور سورج کی نقل و حرکت کا چارٹ بنا سکتے ہیں تو عید اور دیگر مہینوں کے چاند کے نکلنے کی تاریخ کا تعین کرنے میں اتنی مشکل کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Aaj TV

روییت ہلال کمیٹی کا قیام 1974 میں قومی اسمبلی کی ایک قرارداد کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا جس کے بعد سے یہ قمری مہینوں کے چاند دیکھنے کا کام کرتی ہے۔

اس کمیٹی کا سالانہ بجٹ دستاویز کے مطابق 30 لاکھ روپے ہے جس میں 20 ہزار مواصلات جبکہ 29 لاکھ 80 ہزار روپے سفر اور قیام کے لیے مختص ہیں۔

اس کمیٹی کے پہلے نو اراکین ہوتے تھے تھے مگر 2012 میں انھیں بڑھا کر 15 کر دیا گیا اور مفتی منیب الرحمٰن اس کمیٹی کے گذشتہ 12 سال سے چیئرمین ہیں۔

فالو کسے کریں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Critial Mass Islamabad

پاکستان میں سستی موٹرسائیکلوں کی بھرمار کی وجہ سے سائیکل سواری کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے اور شہری منصوبہ بندی اور سڑکوں کی تعمیر میں سائیکل سوار طبقے کو بالکل مدِ نظر نہیں رکھا جاتا۔

’کرٹکل‘ ماس سائیکلنگ کے رجحان کو فروغ دینے کی ایک تحریک کا نام ہے جو فیس بُک پر موجود ہے۔ پاکستان میں یہ گروپ اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں فعال ہے جس کا مقصد شہریوں کو سائیکل سواری کی جانب مائل کرنا ہے جس کے لیے یہ مختلف سائیکلنگ ٹور منعقد کرواتا ہے۔ ان میں کوئی بھی شامل ہو سکتا ہے جس کے پاس سائیکل ہو۔

اس ہفتے کی تصویر

Image caption چھ جولائی کے سکاٹش اخبار دی نیشنل کا صفحۂ اول

اسی بارے میں