’دو فقیر مل گئے تو خدا نے بادشاہ بنا دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کی بیگم بلقیس ایدھی کو ان سے ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ وہ گھر کو وقت نہیں دیتے تھے۔

دو سال قبل جب تھر میں قحط سالی کی وجہ سے مور مرنے لگے تھے تو ایدھی ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ ننگرپارکر پہنچ گئے تھے اور تب بلقیس ایدھی نے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ ’ کمزوری کی وجہ سے اپنی ٹانگوں پر کھڑے نہیں ہو سکتے لیکن موروں کو بچانے چل دیے۔‘

٭ ’تمام انسانیت کا خادم چل بسا‘

٭ عبدالستار ایدھی کی زندگی تصاویر میں

٭ ایدھی کی عیادت مت کرو، وسعت اللہ خان کا کالم

٭ علاج پاکستانی ہسپتالوں ہی میں کراؤں گا: ایدھی

ایدھی اپنی کامیابی میں ایک بڑا حصے دار اپنی بیوی بلقیس ایدھی کو بھی قرار دیتے تھے۔ جب انھوں نے نومولود بچوں کے لیے ایدھی سینٹرز میں جھولے لگائے تو ان بچوں کی ذمہ داری ان کی بیگم نے ہی سنبھالی تھی۔

بلقیس ایدھی کا کہنا تھا کہ سڑکوں اور گندگی کے ڈھیروں سے بچے مردہ حالت میں ملتے تھے۔

’ایدھی نے کہا کہ ہم جھولے لگاتے ہیں تاکہ لوگ ان بچوں کو یہاں چھوڑ کر جائیں ماریں نہ۔ مولویوں نے شور کرنا شروع کر دیا کہ ہم ناجائز تعلقات اور بچوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، انھوں نے کئی فتوے وغیرہ بھی جاری کیے لیکن انھوں نے کبھی پرواہ نہیں کی۔‘

شہر کے پرانے علاقے میٹھادر میں ایدھی کی رہائش گاہ کے ایک حصے میں ڈسپینسری، دوسرے میں زچہ خانہ، جبکہ عقبی حصے میں ایدھی کا دفتر اور بالائی منزل پر ایک بڑا کمرہ لاوارث بچوں کے سونے کے لیے مختص تھا جبکہ ایک کمرے میں ان کے لیے سکول موجود تھا، ان سب معاملات کی نگران بلقیس ایدھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جب ایدھی نے نومولود بچوں کے لیے ایدھی سینٹرز میں جھولے لگائے تو ان بچوں کی ذمہ داری بلقیس ایدھی نے ہی سنبھالی تھی۔

بلقیس ایدھی بتاتی ہیں کہ ایدھی کی شادی ان کی ہم عمر خاتون سے طے ہوئی تھی، وہ بھی ان کے ساتھ کام کرتی تھیں لیکن عین وقت پر انھوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ’تو فقیر ہے میں تیرے سے شادی نہیں کروں گی۔‘

بلقیس کے مطابق اس کے بعد انھوں نے ایدھی کا رشتہ مانگا ’اس طرح دو فقیر مل گئے تو خدا نے بادشاہ بنا دیا۔‘

بلقیس ایدھی کے مطابق ایدھی جب ناراض ہوتے تو کھانا نہیں کھاتے تھے اور بڑے ضدی تھے وہ بڑی مشکل سے انھیں مناتی تھیں۔ ’والدہ نے نصیحت کی تھی کہ یا تو کسی کے بن جاؤ یا کسی تو کو اپنالو۔یہ بننے والا بندہ تو تھا نہیں ، اس لیے میں ہی اپنا لیا اور اس کی تین باتوں معاف کرو، درگذر کرو اور اللہ پر بھروسہ کرو نے جوڑے رکھا۔‘

بلقیس ایدھی کے مطابق اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے ایدھی گھر کو بہت کم وقت دیتے تھے، ’ایک مرتبہ وہ اندرون سندھ لاش چھوڑنے گئے ہم بھی ایمبولینس میں سوار ہوگئے لاش چھوڑنے کے بعد ایک جگہ رکے جہاں نہر تھی وہاں لوگوں نے کھانا کھلایا اور ہم نے پکنک منائی۔‘

پاکستان میں زلزلے، سیلابوں اور بم دھماکوں میں ایدھی فاؤنڈیشن متاثرین کی مدد میں آگے آگے رہی ہے۔ بلقیس ایدھی کے مطابق ’جب بھی ایمرجنسی ہوتی تو جیسے یہ 20 سال کے ہوجاتے۔ اتنی توانائی آجاتی تھی ان میں۔‘

بلقیس ایدھی کے مطابق اگر کوئی ملازم غلط کام کرتا یا بے ایمانی کرتا ہوا پکڑا جاتا تو ایدھی اسے معاف کردیتے لیکن پولیس کے حوالے نہیں کرتے تھے۔

میٹھادر میں ایدھی کے دفتر میں موجود بڑی میز پر شیشے کے نیچے ایک ہزار، پانچ سو اور سو کے کئی نوٹ موجود تھے۔ ایدھی صاحب سے ایک ملاقات کے دوران وجہ جاننی چاہی تو انھوں نے بتایا تھا کہ یہ جعلی نوٹ ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا لوگ آپ کو جعلی نوٹ دیتے ہیں ایدھی کا کہنا تھا کہ نہیں ملازم ان نوٹوں کو تبدیل کر لیتے ہیں۔

کراچی میں جب ایک دہائی قبل سیاسی اور انتظامی معاملات تبدیل ہوئے تو ایدھی فاؤنڈیشن کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EDHI FOUNDATION

بی بی سی کو ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ فطرہ اور زکوٰۃ لینے نہیں جاتے کیونکہ انھیں روکا جائے گا یا پھر مارا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی جگہ بیٹھے ہوئے ہیں اور انھیں انسایت کے ناتے امن پسند رہنا پسند ہے اور ’ کوئی نہ کوئی اچھا وقت آئےگا لوگ ہمیں بلا کر خود دیں گے۔‘

کراچی کی ایم اے جناح روڈ سے روزانہ ایدھی کی ایمبولینس گزرتی ہیں جس میں کسی نہ کسی شخص کا قریبی رشتے دار زخمی، بیمار یا مردہ حالت میں ہوتا ہے۔

گذشتہ شب ایمبولینسوں کے قافلے میں اس بزرگ کی لاش سرد خانے منتقل کی جا رہی تھی، جو چند لوگوں کا نہیں پورے شہر کا قریبی رشتے دار تھا۔

یقیناً یہ احساسِ یتیمی صرف فیصل کے لیے نہیں بلکہ کراچی شہر کی دو کروڑ آبادی بھی یتیم ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں