’آج ہم بےبس اور یتیم ہوگئے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایدھی کی میت پاکستان کے قومی پرچم میں لپیٹ کر توپ گاڑی پر لائی گئی

کراچی کے علاقے میٹھادر میں گنجان آبادی کی درمیان واقع عبدالستار ایدھی کے گھر پر صبح سے لوگوں کا مجمع تھا۔ اندر ان کے صاحبزادے فیصل ایدھی تھے اور سامنے ہی ان کے والد کی لاش موجود تھی۔

یہ وہی کمرا تھا جس میں عبدالستار ایدھی بیٹھ کر انتظامی امور سرانجام دیتے تھے۔ آج وہاں سٹریچر رکھ کر ان کا آخری دیدار کرایا جا رہا تھا۔

لوگ دونوں ہاتھ باندھ کر احترام کے ساتھ ایسے کمرے میں داخل ہوتے جیسے عام طور پر مزاروں میں داخل ہوا کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض ایدھی کے ساتھ عقیدت کے لیے سر پر ہاتھ پھیرتے اور آگے بڑھ جاتے۔

٭ عبدالستار ایدھی: لاوارثوں کا وارث: خصوصی ضمیمہ

٭ میرے نظریے کو یاد کریں، میں خود ہی یاد آ جاؤں گا

٭ ایدھی کا سفر آخرت تصاویر میں

٭ ماں اور بلقیس: ایدھی کی زندگی کے دو اہم کردار

٭ایدھی نے بڑی مشکل میں ڈال دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ساتھ والے کمرے میں بلقیس ایدھی اور ان کی بیٹیاں موجود تھیں جن کے پاس رشتے دار خواتین کی آمد جاری تھی۔ عمارت میں واقع ڈسپینسری معمول کے مطابق کھلی تھی جس میں ڈاکٹر اور دیگر سوگوار عملہ موجود تھا۔ البتہ صبح ساڑھے دس بجے تک کوئی مریض نہیں آیا تھا۔

میٹھادر سے ایدھی سینٹر ٹاور پہنچے تو وہاں بھی خاموشی تھی۔ سٹاف میڈیا کیمروں کے گھیرے میں تھا اور ان سے ایدھی کی شخصیت اور رویے کے بارے میں سوالات جاری تھے۔ یہ ملازم اس طرح بیان کر رہے تھے جیسے اپنے کسی بزرگ کے بارے میں بات کر رہے ہوں۔

فیصل ایدھی نے پہلے نمازِ جنازہ میمن مسجد بولٹن مارکیٹ میں ادا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے بتایا تھا کہ نماز کے انتظامات نیشنل سٹیڈیم میں کیے جا رہے ہیں کیونکہ حکومت سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین چاہتی ہے۔

Image caption نماز جنازہ میں عام شہریوں کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی شخصیات نے شرکت کی

نیشنل سٹیڈیم کے اندر اور اطراف میں سکیورٹی اور انتظامی امور پاکستان فوج نے سنبھال رکھے تھے، عام شہریوں کو تین داخلی راستوں کے ذریعے تلاشی کے بعد اندر جانے کی اجازت تھی۔ لوگ قطاروں کے ذریعے اندر داخل ہو رہے تھے۔

مائیک پر لوگوں کو سختی سے ہدایات جاری ہوتی رہیں کہ وہ صفیں باندھ کر رکھیں، زمین پر نہ بیٹھیں اور آگے نہ بیٹھیں۔ پہلی صف میں پاکستان فوج، نیوی، ایس ایس جی، میرین اور رینجرز کے اہلکار اور قیادت موجود تھی جبکہ ان کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے رہنما موجود تھے جبکہ خاردار تار کے پیچھے عام لوگ موجود تھے۔

میڈیا کو انکلوژر تک محدود رکھا گیا جس وجہ سے انھیں جالیوں کے دوسری طرف کوریج میں مشکلات پیش آئیں۔ میڈیا کو بھی سکیورٹی کے تین مراحل سے گزر کر کے اندر جانے کی اجازت تھی۔ بعد میں آئی ایس پی آر کے مقامی افسران نے کچھ صحافیوں کو سٹیڈیم کی چھت سے کوریج کی اجازت دی۔ اس دوران فوج کا دستہ گارڈ آف آنر کی مشق کرتا نظر آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صدر مملکت، فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ تقریباً ایک ساتھ سٹیڈیم میں داخل ہوئے۔ انھیں اگلی صف میں جگہ دی گئی۔ اس موقعے پر فیصل ایدھی جنرل راحیل شریف کے ساتھ موجود تھے۔

ایدھی کی میت پاکستان کے قومی پرچم میں لپیٹ کر توپ گاڑی پر لائی گئی، جس پر گلاب کی پتیاں بچھی ہوئی تھیں۔ فوجی دستے نے میت کو کندھے پر اٹھایا اور نماز کے لیے سامنے رکھ دیا۔ اسی دوران اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوتے رہے۔

نماز اور دعا کے بعد پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ فوج کے اہلکاروں نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، صدر مملکت اور وزرائے اعلیٰ کو راستہ بنا کر دیا جبکہ لوگ میت کو کندھا دینے کے لیے بے چین تھے۔ اسی دوران دھماکے کی آواز آئی جس سے لوگ کے چہروں پر پریشانی کے آثار نمودار ہوئے، تاہم بعد میں پتہ چلا کہ توپوں کی سلامی پیش کی جا رہی ہے۔

فادر صالح ڈیاگو اپنے ساتھ ایدھی کی میت کے لیے پھول لائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایدھی خدا کی طرف سے بہت بڑا تحفہ تھے جو انسانیت کی بہت زیادہ قدر کرتے اور ان کی خدمت میں انھوں نے اپنا ساری زندگی وقف کر دی، ایدھی نے جو انسایت کی خدمت کی اس کو بھول نہیں پائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیشنل سٹیڈیم کے اندر اور اطراف میں سکیورٹی اور انتظامی امور پاکستان فوج نے سنبھال رکھے تھے

ایک عام شہری نے غمزدہ لہجے میں بتایا کہ جو کام حکومت کی ذمہ داری تھی وہ ایدھی صاحب ادا کرتے تھے۔’آج ہم بےبس اور یتیم ہوگئے ہیں۔‘

نیشنل سٹیڈیم میں لوگوں کی وہ تعداد جمع نہیں ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ ایک صحافی کے مطابق سکیورٹی چیکنگ اور آبادی سے دوری کی وجہ سے لوگوں کی شرکت کم رہی۔

عبدالستار ایدھی کی میت کو سپر ہائی وے پر واقع ایدھی ولیج منتقل کیا گیا، لاوارث بچوں، بزرگوں اور ذہنی مریضوں کے اس گھر کے ایک ویرانے کونے میں عبدالستار ایدھی نے اپنے لیے قبر تیار کرائی تھی، جہاں انھیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

اسی بارے میں