ایدھی ہوم کوئٹہ میں’مولانا ابو نے بہت پیار دیا‘

Image caption ’ آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے‘

عبدالستار ایدھی کی وفات پر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قائم ایدھی ہوم میں موجود خواتین، یتیم بچے اور ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار انتہائی افسردہ دکھائی دیے۔

ایدھی ہوم کوئٹہ میں زیر کفالت بچے مولانا عبدالستار ایدھی کو مولانا ابو کا نام دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات سے وہ یتیم ہوگئے ہیں۔

٭ عبدالستار ایدھی: لاوارثوں کا وارث: خصوصی ضمیمہ

٭ ایدھی کا سفرِ آخرت

٭ ایدھی نے بڑی مشکل میں ڈال دیا

اس ہوم میں قوت گویائی سے محروم ایک خاتون بھی تھی جن کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔

ایدھی ہوم کے ایک رضا کار محمد ادریس نے بتایا کہ گونگی ہونے کے باعث اس خاتون کا نام تو معلوم نہیں ہو سکا تاہم ایدھی صاحب نے پیار سے انھیں گونگی کا نام دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 17سال قبل یہ خاتون ایدھی ضاکاروں کو سڑک سے ملی تھی جہاں سے اس کو ایدھی ہوم منتقل کیا گیا تھا۔

محمد ادریس کے مطابق جب ایدھی صاحب کوئٹہ آتے تھے تو یہی خاتون ان کے لیے کھانا پکاتی تھی۔

جہاں اس خاتون کی آنکھوں سے آنسو رواں دواں تھے وہاں وہ دیواروں پر لگی ایدھی کی تصاویر کو بھی اپنے دوپٹے سے صاف کرتی رہی۔

محمد ادریس کے مطابق یہ خاتون کسی اور کو ایدھی صاحب کی تصاویر کو صاف نہیں کرنے دیتی بلکہ یہاں آنے کے بعد وہ خود ان کو صاف کرتی رہتی ہے۔

ایدھی ہوم میں موجود دو بچوں کا کہنا تھا کہ وہ آج حقیقی معنوں میں یتیم ہوگئے۔

Image caption ایدھی ہوم میں موجود دو بچوں کا کہنا تھا کہ وہ آج حقیقی معنوں میں یتیم ہوگئے

ایک بچے دانش نے ایک جھولے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ پیدائش کے بعد ان کو یہاں لایا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنے ماں باپ کو نہیں دیکھا لیکن مولانا ابو نے ان کو بہت پیار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت دکھی ہیں کیونکہ ان کے ابو فوت ہوگئے ہیں۔

ایک اور بچے کا کہنا تھا کہ ہم نے ایدھی ہوم میں اپنے مولانا ابو کو دیکھا تھا جن کے وفات کے باعث آج ہم یتیم ہوگئے۔

محمد ادریس نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا کہ ایدھی صاحب سب لوگوں سے پیار کرتے تھے لیکن ایدھی ہومز میں زیر کفالت بچوں بالخصوص بچیوں سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے۔

اسی بارے میں