’زیادہ ایدھی نہ بنو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’ایدھی صاحب ایک عظیم انسان تھے، عبدالستار ایدھی کے انتقال سے قوم یتیم ہو گئی۔‘

’ایدھی صاحب کی خدمات ہمشہ یاد رکھی جائیں گے۔‘

عبدالستار ایدھی کے انتقال کی خبر آنے کے بعد میڈیا چینلز کی لمحہ با لمحہ رپورٹنگ نے مجھے ماضی میں دھکیل دیا۔

زمانہ طالب علمی میں اکثر اوقات ہنسی مذاق میں دوست احباب کسی بات پر یہ کہہ کر چپ کروا دیتے تھے کہ ’زیادہ ایدھی بننے کے ضرورت نہیں ہے‘

اُس وقت میں اس جملے کا مطلب بھی ناپختہ سوچ کی طرح غیر واضح تھا بس یہی سمجھ میں آتا تھا کہ سامنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ زیادہ اچھا بننے کی ضرورت نہیں۔

تعلیم مکمل ہوئی اور پیشہ ورانہ زندگی شروع ہوئی تو ایک مرتبہ جونیئر رپورٹر کی حیثیت سے ایدھی ہوم میں اجتماعی شادی کی تقریب کی رپورٹنگ کے لیے جانے کا اتفاق ہوا۔

وہیں پہلی مرتبہ عبدالستار ایدھی اور اُن کی اہلیہ بلقیس ایدھی سے ملاقات کا موقع ملا۔

ایدھی ہوم میں پروان چڑھنے والی لا وراث لڑکیوں کی شادی پر بلقیس ایدھی اور ایدھی صاحب جذبات بالکل ایسے تھے حقیقی ماں باپ کے ہوتے ہیں وہ لڑکیاں رخصتی کے وقت دونوں کو ممی اور پاپا کہہ کر گلے لگیں اور خوب روئیں۔ ایدھی صاحب کی آنکھیں بھی نم تھیں۔

یہ پہلی ملاقات بہت پراثر اور اپنایت سے بھرپور تھی۔شاید یہی وہ خصوصیت تھی جس نے خدمت خلق کے جذبے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو عبور کرنے میں ایدھی کی مدد دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EDHI FOUNDATION

بظاہر ایک سادہ سا آدمی ہر نمود و نمائش سے پاک درحقیقت کتنا بڑا آدمی ہے۔

مرنے کے بعد گور اور کفن ملنا ہر انسان کا حق ہے لیکن جس ملک میں ایک بم دھماکے میں کئی افراد کے پرخچے اڑ جائیں تو ایسے میں میت کے قریب آتے ہوئے گھر والے بھی ہچکچاہتے ہوں لیکن ایدھی فاؤنڈیشن نہ جانے کتنی میتوں کو سٹرک سے اُٹھا کر آخری آرام گاہ تک لے جاتی ہے۔

ایمبولینس سروس، سرد خانے، میت رکھنے کے مراکز ہیں اور یہاں تک جب ماں کسی مجبوری کی بنا پر اپنے لختِ جگر ایدھی کی گود میں ڈال دیتی ہے، اپنوں کی محرومیوں کے شکار بزرگ بھی ایدھی کے سائبان تلے آ کر امان پاتے ہیں۔

ایدھی کی خدمات کو جہاں کئی افراد نے سراہا وہیں اُن کے خلاف مہم چلانے والوں نے اُن پر لاوارث لاشوں کے اعضا نکالنے اور لاشیں بیچنے کا بھی الزام لگایا۔

لیکن انسانیت کے جذبے کی رسی تھامے وہ آگے بڑھتے گئے اور مخالفتیں دم توڑتی گئی۔

تو جوں جوں نفسانفسی کے اس دور میں درندگی بڑھتی گئی ’زیادہ ایدھی نہ بنو‘ کا مطلب واضح ہونے لگا۔

انسانیت، ہمدردی، خیال، خدمتِ خلق کا جذبہ سادگی اور اچھائی جیسی صفات کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو شاید ’ایدھی‘ سے مناسب کوئی لفظ نہیں ہو گا۔

ایدھی ایک احساس کا نام تھا اُن کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد یہ احساس ہوا کہ وہ خود تو منوں مٹی تلے چلے جائیں گے لیکن اُن کا نام ہمیشہ مجھ جیسے افراد کو زندگی کا مقصد یاد دلانے کے ساتھ ساتھ اور یہ باور کرواتا رہے گا کہ ’ایدھی جیسا بنو‘