انڈیا ریاستی دہشتگردی کر رہا ہے: پاکستان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے انڈیا کشمیر میں نہتے لوگوں کا خون بہا رہا ہے اور اسے دہشت گردی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا ’یہ ایک آزادی کی تحریک ہے جسے انڈیا دہشت گردی کی تحریک بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالانکہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ انڈیا کی طرف سے ریاستی دہشت گردی ہے۔‘

٭ کشمیر ہلاکتوں کی تعداد 30، سیاسی حل کے لیے کوششیں

٭ کشمیریوں کی ہلاکتیں ماورائے عدالت قتل ہیں: پاکستان

بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد سے بات کرتے ہوئے اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی کے معاملے کو انڈیا سمیت ہر سطح پر اٹھایا جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا ’یقیناً اس معاملے کو ہر سطح پر اٹھایا جائے گا، انڈیا کے ساتھ دو طرفہ بنیاد پر ان سے بھی بات کریں گے۔‘

اعزاز چوہدری نے بتایا کہ انھوں نے پاکستان کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے انڈین ہائی کمشنر کو طلب کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

دوسری جانب انڈیا کی وزارت برائے امور خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کشمیر میں حالیہ کشیدگی پر پاکستان کی جانب سے دیے جانے والے بیانات پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔

وکاس سوارپ نے کہا ’ہم نے انڈیا کے زیر انظام کشمیر پر پاکستان کے بیانات دیکھے ہیں جس سے پاکستان کا دہشت گردی کے ساتھ مسلسل تعلق ظاہر ہوتا ہے جسے وہ ریاستی پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’پاکستان کو مشورہ ہے کہ وہ پڑوسیوں کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اعزاز چوہدری نے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کے حوالے سے کہا ’دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات بہت ضروری ہیں۔ اس کے لیے پرانے تنازعات کو حل کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کو توقع ہے کہ انڈیا سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا اور ہمارے ساتھ بامعنی مذاکرات شروع کرے تاکہ کشمیر سمیت دیگر معاملات کو حل کیا جا سکے۔‘

خیال رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں نوجوان علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد جمعے کی شام سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر کے دوران مرنے والوں کی تعداد 30 ہوگئی ہے۔

دوسری جانب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آٹھ جولائی سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے انڈیا کی حکومت نے سیاسی حریفوں اور کشمیر میں سرگرم تمام سیاسی حلقوں سے تعاون کی درخواست کی ہے۔

تاہم علیحدگی پسندوں نے ان اپیلوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ نہتے مظاہرین پر فائرنگ کا سلسلہ اور عوامی اجتماعات پر پابندی کو فوراً بند کیا جائے تو حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں