باجوڑ ایجنسی میں دھماکہ، دو مبینہ شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باجوڑ ایجنسی میں سنہ 2009 میں ہونے والی فوجی کاروائیوں کے بعد شدت پسندوں کو علاقے سے بے دخل کیاگیا تھا (فائل فوٹو)

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک بم دھماکے میں دو مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ باجوڑ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب صدر مقام خار سے چند کلومیٹر دور تحصیل سالارزئی کے علاقے میں پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ دو مبینہ شدت پسند رات کی تاریکی میں سڑک کے کنارے دھماکہ خیز نصب کررہے تھے کہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں دونوں افراد موقع ہی پر مارے گئے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مرنے والے افراد کے جسم کے اعضاء دور دور تک ٹکڑوں کی شکل میں پھیل گئے تھے۔

اہلکار نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور یہ معلوم کیا جارہا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کون تھے اور وہ کس کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

خیال رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں گذشتہ چند مہینوں کے دوران ہدف بناکر قتل کے واقعات میں پھر سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حالیہ زیادہ تر حملوں میں سکیورٹی اہلکار اور حکومتی حامی قبائلی مشران کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں سنہ 2009 میں ہونے والی فوجی کاروائیوں کے بعد شدت پسندوں کو علاقے سے بے دخل کیاگیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ باجوڑ کے بیشتر عسکریت پسند سرحد پار افغان علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ قبائلی مشران کا کہنا ہے کہ ہر واقعے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا جاتا ہے اور حملوں کی تحقیقات بھی ہوتی ہے تاہم اس کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی نہیں آرہی۔ ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً کالعدم تنظیمیں قبول کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں