’جنرل راحیل شریف کے بینرز لگانا حکومت کی ایک چال ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت ملک کے مختلف علاقوں میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بینرز لگا کر ملک میں خوف کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ لوگوں کی توجہ پاناما لیکس سے ہٹ کر اس جانب ہو جائے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قائد حزب چوہدری اعتزاز احسن نے پارلیمان ہاوس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور پوری قوم فوج کی ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

٭ جنرل راحیل کو توسیع دیں: پیپلز پارٹی کی قرار داد

٭ ایکسٹینشن پر یقین نہیں رکھتا: جنرل راحیل شریف

٭ ’جنرل راحیل شریف کا بیان قبل از وقت ہے‘

انھوں نے کہا کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ملک میں نہ تو مارشل لا لگنے کے کوئی امکانات ہیں اور نہ ہی فوج اقتدار پر قبضہ کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتی ہے۔

چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ حکومت کو معلوم ہے کہ اگر پاماما لیکس کی تحققیات ہوں گی تو اس میں وزیر اعظم کسی طور پر بھی نہیں بچ سکیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں حکومت ملک میں غیر یقینی صورت حال پیدا کرنا چاہتی ہے اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بینرز لگانا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ بینرز لگانا حکومت کی ایک چال ہے حکومت ہمیں خوفزدہ کر کے پاناما لیکس کی تحقیقات سے بچنا چاہتی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خوریش شاہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بینرز آویزاں کرنا حکومت کی عمل داری کے لیے ایک چیلیج ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس طرح کے بینرز لگانے سے خود آرمی چیف کی شخصیت کو سیاسی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اُنھیں یقین ہے کہ جنرل راحیل شریف کو ان بینرز سے متعلق علم بھی نہیں ہوگا۔

اُدھر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں آرمی چیف کے بیرز لگانے کے معاملے میں فوج یا اس کے کسی ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب کی ایک تنظیم موو آن پاکستان نے ملک کے مختلف شہروں میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصاویر والے بینرز مختلف شاہراہوں پر آویزاں کردیے ہیں جن پر لکھا ہوا ہے کہ ’جانے کی باتیں ہوئیں پرانی، خدا کے لیے اب آجاو۔‘

راولپنڈی کے چھاونی کے علاقے میں میٹرو بس سروس کے ٹریک پر آویزاں ان بینرز کے حوالے سے خفیہ اداروں نے صوبائی حکومت کو رپورٹ بھیج دی ہے جس کے بعد ان بینرز کو اتار لیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے اپوزشین جماعت کے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ جو کوئی بھی ایسے بینرز لگا رہا ہے وہ کسی بھی خدمت نہیں کررہا۔

وزیر مملکت ڈاکٹر طارق فضل نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے بینرز لگانے یا فوج کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی دعوت دینے سے کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایسے بینرز آویزاں کرنے کا مقصد شدت پسندوں کے خلاف جاری ضرب عضب میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت احتساب سے نہیں بھاگ رہی لیکن ایسا قانون وضح کیا جانا چاہیے جس میں سب کا یکساں احتساب ہو۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنی مدت ملازمت میں کسی قسم کی توسیع لینے سے انکار کیا ہے اور فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل راحیل شریف اپنی مقررہ مدت پر ریٹائر ہو جائیں گے۔

آرمی چیف اس سال نومبر کے آخر میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں