سرائے عالمگیر میں مسیحی نوجوان پر ’توہین رسالت‘ کا مقدمہ

Image caption عیسائی نوجوان پر الزام ہے کہ اس نے مسلمان لڑکے کو بھیجے گئے پیغام میں توہین رسالت کی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کی تحصیل سرائے عالمگیر میں مبینہ طور پر توہین آمیز ایس ایم ایس بھیجنے پر ایک مسیحی نوجوان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

گجرات پولیس کے ترجمان محمد عتیق نے بی بی سی کو بتایا کہ سرائے عالم گیر کے محلہ یعقوب آباد کے مکین یاسر بشیر نے اپنے دوست ندیم مسیح کے خلاف یہ مقدمہ درج کروایا ہے۔

٭توہین مذہب کا مبینہ واقعہ، جہلم میں کشیدگی

پولیس کے مطابق یاسر بشیر 10 جولائی کو آٹھ مقامی مذہبی شخصیات کے ہمراہ پولیس سٹیشن تھانہ سٹی صدر سرائے عالمگیر آئے تھے۔

ترجمان کے مطابق ’یاسر بشیر نے بتایا کہ ندیم مسیح نے انھیں واٹس ایپ پر ایک ایس ایم ایس کیا جس میں توہین آمیز باتیں درج تھیں۔‘

پی آر او محمد عتیق کا کہنا ہے کہ فی الحال اس معاملے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور دفعہ 295 سی کے تحت درج کروائی گئی ایف آئی آر کو سیل کر دیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ تھانہ سٹی صدر کے حکام اور ڈی پی او گجرات نے اس معاملے کی تفصیلات معلوم کی ہیں اور یاسر بشیر کا موبائل بھی چیک کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ندیم مسیح کی جانب سے بھجوایا گیا پیغام ’فارورڈ‘ میسج ہے اور ابھی اس کی مزید جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

’موبائل پر موجود ایس ایم ایس سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں دوستوں کے درمیان مذہب کے معاملے پر بحث چل رہی تھی اور یہ پیغام بھی اسی دوران بھجوایا گیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ محلہ یعقوب آباد میں مسیحیوں کے دو سے تین گھرانے آباد ہیں جبکہ اس محلے سے تین کلومیٹر دور واقع فادرز کالونی میں مسیحی برادری کے 50 کے قریب مکانات موجود ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ندیم مسیح ان کے چچا اور بھائی اپنے گھر سے فرار ہیں اور کسی بھی انتشار سے بچنے کے لیے ان کی بہنوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ علاقے میں 200 پولیس اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مبینہ طور پر توہین رسالت کا واقعہ چار جولائی کو پیش آیا تھا تاہم بعد میں صلح صفائی کی کوششیں کی گئیں لیکن بحث و تکرار کے بعد یاسر بشیر نے پولیس سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

خیال رہے کہ سرائے عالم گیر کے قریب ہی واقع صوبہ پنجاب کے شہر جہلم میں آٹھ ماہ قبل توہینِ مذہب کے مبینہ واقعے کے بعد فوج تعینات کرنا پڑی تھی۔

اسی بارے میں