’پاکستان کو دی جانے والی امداد پر پابندی عائد کی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے پاکستان کو دی جانے والی ہر طرح کی امداد کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

’دہشت گردی کے خلاف پاکستان دوست یا دشمن‘کے موضوع پر کانگریس کی اہم سمجھی جانے والی خارجہ معاملات کی ذیلی کمیٹی کی سماعت کے دوران پاکستان کی پالیسیوں پر سخت تنقید ہوئی اور انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے گئے۔

٭ ’پاکستان کا اچھے اور برے دہشتگردوں میں امتیاز برقرار‘

٭ ’تعلقات میں بہتری کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے‘

٭ پاکستان کسی سفارتی تنہائی کا شکار نہیں: فاطمی

ذیلی کمیٹی کے سربراہ میٹ سلمون کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اب بھی شدت پسند تنظیموں کی حمایت کی حکمتِ عملی تبدیل نہیں کرتا تو اسے دی جانے والی امداد پر مکمل پابندی عائد کر دینی چاہیے۔

منگل کو ذیلی کمیٹی کے سوالوں کا جواب دینے کے لیے سابق سفارت کار زلمے خلیل زاد، امریکی یونیورسٹی کی پروفیسر ٹرسيا بیکن اور لانگ وار جرنل کے سینئیر ایڈیٹر بل رجيو کانگریس میں پیش ہوئے۔

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری جنگ کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کی پالیسی ہے۔

تینوں کی رائے تھی کہ پاکستان اب بھی ’اچھے اور برے طالبان‘ کی پالیسی پر گامزن ہے اور امریکہ سے کیے گئے وعدوں کے باوجود ان تنظیموں کو نشانہ نہیں بنا رہا جو بھارت اور افغانستان کے خلاف حملے کر رہی ہیں یا امریکی فوج کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ان تنظیموں میں خاص طور پر حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ، جیش محمد اور افغان طالبان کا ذکر کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ White House
Image caption واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ براک اوباما اور نواز شریف ایک مشترکہ بیان میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کیا

دوسری جانب واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان ندیم ہوتیانہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے مشترکہ مقصد میں طویل وقت کے شراکت دار اور دوست ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعاون کو دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر سنہ 2015 میں امریکی صدر براک اوباما اور وزیر اعظم نواز شریف نے ایک مشترکہ بیان میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کیا تھا، اور دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور ہر طرح کی انتہا پسندی اور شدت پسندی کو ختم کرنے کے عزم کو دہرایا ہے۔

پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان ندیم ہوتیانہ نے مزید کہا کہ ’آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان میک کین نے پاکستان کے حالیہ دورے اور شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتائج دیکھنے کے بعد کہا تھا کہ وہ یہاں ہونے والی پیش رفت سے متاثر ہوئے ہیں۔‘

اس سماعت سے دو ہفتے پہلے خارجہ معاملات ہی کی ایک اور ذیلی كمیٹی کے سربراہ ٹیڈ پو نے ایک امریکی اخبار میں کالم لکھ کر پاکستان کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی۔

اس کے جواب میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی نے انھیں خط لکھ کر کہا تھا کہ پاکستان نے گذشتہ دو برسوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں حقانی نیٹ ورک سمیت کئی تنظیموں کو نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’اس کارروائی میں 3,500 شدت پسند مارے گئے جن میں سے 900 لشکر اسلام سے تعلق رکھتے تھے اور وہ امریکی فوج کی رسد پر حملہ کرتے تھے۔‘

جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستانی خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اس کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے اور وہ ان کارروائیوں میں اپنے 500 فوجیوں کی جانیں قربان کر چکا ہے۔

اسی بارے میں