ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کے ہمراہ فوج تعینات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈیرہ اسماعیل خان میں تین ماہ میں ڈیڑھ درجن افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد شہر میں پولیس کے ہمراہ فوج بھی تعینات کر دی گئی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے اہم مقامات کے علاوہ شہر کے اندر داخل ہونے والے راستوں پر فوجی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

پولیس کے ہمراہ تعینات یہ اہلکار موٹر سائیکلوں اورگاڑیوں کی چیکنگ کرتے ہیں جبکہ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی موقع پر سرزنش کی جاتی ہے۔

٭ ڈی آئی خان: ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مظاہرے، سڑکیں بلاک

مقامی لوگوں نے بتایا کہ فوجی اہلکار پولیس اہلکاروں کے ہمراہ تعینات ہیں۔ ان میں لوگوں سے ان کی شناخت جاننے اور تلاشی لینے کا کام پولیس اہلکار کرتے ہیں، شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

یہ فیصلہ ڈیرہ اسماعیل خان میں عید کے روز ایک شیعہ وکیل کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ہائی کورٹ کے معروف وکیل شاہد شیرازی کو ملتان روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا ۔

وکیل کی ہلاکت کے بعد لواحقین اور مقامی لوگوں نے عید کے روز سڑک پر لاش رکھ کر شہر سے باہر جانے والے تمام راستے مختلف مقامات پر بلاک کر دیے تھے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں مکمل فوجی آپریشن کیا جائے اور ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کر کے اس میں ڈیرہ اسماعیل خان کی صورتحال پر لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈیرہ اسماعیل خان میں تین ماہ میں ڈیڑھ درجن افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے ان میں زیادہ تعداد اہل تشیع اور پولیس اہلکاروں کی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے اہل تشیع افراد میں پانچ وکیل، ایک پروفیسر اور ایک استاد شامل ہیں۔

ادھر ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ قبائلی علاقوں میں سکولوں اور طبی مراکز کی نگرانی بھی اب فوج اور نیم فوجی دستے کے اہلکار کریں گے۔

اس کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جنھوں نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ان محکموں میں بد عنوانی کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

سرکاری سطح پر حکام اس بارے میں خاموش ہیں اور اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی جا رہی۔

قبائلی علاقوں میں بڑی تعداد میں صحت کے مراکز کے علاوہ کوئی 5500 تعلیمی ادارے ہیں جن میں کوئی پونے چھ لاکھ بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بعض علاقوں میں ان مانیٹرنگ کمیٹیوں نے کام شروع کر دیا ہے۔ تاہم خیبر ایجنسی اور جنوبی وزیرستان ایجنسی سے اس بارے میں کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی ہے۔

اسی بارے میں