غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کو ’ایک دن کی مہلت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی رہائش میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کی مساجد میں کیے جانے والے اعلانات میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں سے کہا گیا ہے کہ وہ افغان کیمپ یا کہیں اور مقیم ہیں تو علاقہ خالی کر کے واپس اپنے وطن چلے جائیں۔

چارسدہ سے حکام نے بتایا ہے کہ یہ اعلانات سرو کلے اور خواجہ آوس کے علاوہ مہمند ایجنسی کے بعض مقامات پر جمعرات کے روز کرائے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی حکام کی جانب سے یہ اعلانات کرائے گئے ہیں۔

٭ افغانستان میں پاکستانی پناہ گزینوں کی تعداد کیا؟

ان اعلانات میں کہا گیا ہے کہ کیمپوں یا دیگر علاقوں میں مقیم غیر قانونی افغان پناہ گزین علاقہ خالی کر دیں اور اپنے وطن کو واپس چلے جائیں۔

ان غیر قانونی طور پر مقیم پناہ گزینوں کو جمعے کی صبح تک کی مہلت دی گئی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ مساجد کو پیغام بھیجے گئے کہ وہ یہ اعلانات کر دیں انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اعلانات کس کی جانب سے کرائے گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ حکم سکیورٹی حکام کی جانب سے جاری ہوا ہے۔

چارسدہ کے یہ علاقے سرو کلے اور خواہ آوس قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کے قریب واقع ہیں۔ چارسدہ میں افغان کیمپ قائم تو کیے گئے تھے لیکن اب وہاں کم ہی پناہ گزین رہائش پذیر ہیں، بیشتر شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چارسدہ میں افغان کیمپ قائم تو کیے گئے تھے لیکن اب وہاں کم ہی پناہ گزین رہائش پزیر ہیں بیشتر شہری علاقوں میں رہتے ہیں

صوبائی حکومت کے مشیر اطلاعات مشتاق غنی نے کہا ہے کہ ’رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے خلاف پہلے سے کارروائی جاری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی رہائش میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے صوبہ بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں، شدت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بڑی کارروائیاں کی گئیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کر کے واپس وطن بھیجا گیا ہے جبکہ ایسے بھی ہیں جـو خود ہی واپس چلے گئے ہیں۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں بم دھماکوں کے علاوہ امن کمیٹیوں کے رضا کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں