غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کے مکانات مسمار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جن لوگوں کے مکانات مسمار کر دیے گئے ہیں وہ طورخم سرحد کے راستے واپس افغانستان روانہ ہو گئے ہیں

پاکستان میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے دس مکانات مسمار کر دیے گئے ہیں جبکہ رضا کارانہ طور پر واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔

تحصیل جمرود کے علاقے ملاگوری میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو جمعے تک کی مہلت دی گئی تھی۔ اس علاقے میں 40 سے زیادہ ایسے افغان گھرانے ہیں جو غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ مکانات اس لیے مسمار کر دیے گئے ہیں تاکہ یہ لوگ واپس آکر یہاں نہ رہ سکیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے دس مکانات مسمار کر دیے گئے ہیں جبکہ پناہ گزینوں نے سنیچر کی صبح تک کی مہلت مانگی ہے تاکہ وہ اپنا سامان محفوظ کر سکیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ جن لوگوں کے مکانات مسمار کر دیے گئے ہیں وہ طورخم سرحد کے راستے واپس افغانستان روانہ ہو گئے ہیں۔ پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق دیگر پناہ گزینوں کے مکانات سنیچر کے روز مسمار کیے جائیں گے۔

ملا گوری کے علاقے میں یہ افغان گذشتہ 40 تقریباً برسوں سے مقیم تھے لیکن یہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھے۔ ان افغان پناہ گزینوں نے کوشش کی کہ انھیں یہاں رہنے کی اجازت دے دی جائے لیکن حکام نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملا گوری کے علاقے میں یہ افغان گذشتہ 40 تقریباً سالوں سے مقیم تھے لیکن یہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھے

خیبر پختونخوا اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

گذشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں بھی مساجد سے اعلانات کرائے گئے تھے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزین کیمپوں اور دیگر علاقوں میں اگر رہائش پزیر ہیں تو وہ یہ علاقے خالی کر کے واپس وطن چلے جائیں۔

انھیں جمعے کی صبح تک کی مہلت دی گئی تھی لیکن حکام کی جانب سے کسی قسم کی کوئی کارروائی کی اطلاع نہیں ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ اعلانات سیکیورٹی حکام کی جانب سے کرائے گئے تھے۔

ادھر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے پاس رضا کرانہ طور پر واپس جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کی مختلف وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔

حکام کے مطابق پناہ گزینوں کی واپسی تو معمول سے جاری رہتی ہے لیکن گذشتہ ماہ سے پناہ گزینوں کی واپسی میں تیزی دیکھی گئی ہے اور روزانہ تقریباً 300 افراد واپس جا رہے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے عہدیدار قیصر خان آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے دس سے پندرہ خاندان روزانہ واپس جاتے تھے لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 60 سے 70 تک پہنچ چکی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی بڑی وجہ واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی گرانٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کو 200 ڈالر فی خاندان دیے جاتے تھے اور اب 400 ڈالر فی خاندان دیے جارہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے پاس رضا کرانہ طور پر واپس جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے

مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں پناہ گزین واپس وطن جا رہے ہیں۔

افغان پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اب انھیں ہر جگہ روک کر چیکنگ کرتے ہیں اور ہراساں کرتے ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاک افغان سرحد پر سختی اور پاسپورٹ ویزے کی شرط کی وجہ سے اکثر افغان واپسی کے لیے تیار ہوئے ہیں کیونکہ بیشتر کے خاندان پاکستان اور افغانستان میں تقسیم ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ خیبر پختونخوا میں لگ بھگ چھ لاکھ رجسٹرڈ افغان اور لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم پناہ گزین رہتے ہیں۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے افغان پناہ گزینوں کے خلاف سخت کارروائیاں شروع کی گئیں اور غیر قانونی طور پر مقیم ہزاروں افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کرکے واپس وطن بھیجا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں