سیاست دانوں کی بدلتی وفاداریاں

Image caption لیڈر پارٹی سے نہیں بلکہ پارٹی لیڈر سے بنتی ہے: میراکبر

21 جولائی کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے انتخابات میں بظاہر کوئی بھی جماعت حکومت بنانے کے لیے درکار 25 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں خود بھی یہ بات جانتی ہیں اس لیے انھوں نے انتخابات سے قبل ہی سیاسی اتحاد قائم کر لیے ہیں۔

٭’عوام کا کام کریں تو سیاسی پس منظر ضروری نہیں

آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس اور پاکستان تحریکِ انصاف اتحادی ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن نے جماعت اسلامی جیسی نسبتاً چھوٹی جماعت سے اتحاد کر لیا ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی اب تک اکیلی کھڑی ہے۔

چونکہ عام ثاتر یہی ہے کہ اسلام آباد میں قائم حکومت کی گونج یہاں کے ایوانوں میں بھی رہتی ہے اس لیے اس مرتبہ پاکستان کی مرکزی جماعتوں کی مقبولیت نے یہاں کے سیاستدانوں کو برسوں پرانی سیاسی وفاداریاں بدلنے کی راہ دکھا دی۔ ان انتخابات میں کئی سیاسی رہنما اُس سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب نہیں لڑ رہے جس کے ساتھ ان کی ماضی میں وابستگی رہی۔

اس سیاسی توڑ پھوڑ کا سب سے بڑا شکار مسلم کانفرنس بنی جس کے گذشتہ دورِ حکومت میں پانچ سال کے عرصے میں چار وزرائےاعظم تبدیل ہوئے۔ یہ جماعت اپنے ہی رہنماؤں کے خلاف بار بار عدم اعتماد لاتی رہی۔ نیتجہ یہ نکلا کے جماعت دو دھڑوں میں بٹ گئی۔

مسلم کانفرنس کے بیشتر رہنماؤں نے کشمیر میں مسلم لیگ ن کی بنیاد رکھی۔ انہی میں سے ایک میر اکبر اس مرتبہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ مسلم کانفرنس کے بانی رہنماؤں کی صحبت میں کام کرنے والوں میں سے تھے۔

Image caption کبھی پیپلز پارٹی کا ٹکٹ کامیابی کی ضمانت ہوتا تھا۔ آج اس کے ساتھ کرپشن کا بوجھ بھی ہے: خواجہ فاروق

میر اکبر کہتے ہیں کہ پارٹی اختلافات کے سبب سادہ اکثریت سے اسمبلی میں جانے والی جماعت محض چار نشستیں لے کر اسمبلی میں گئی۔

پارٹی بدلنے سے ساکھ کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’لیڈر پارٹی سے نہیں بلکہ پارٹی لیڈر سے بنتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بظاہر نام الگ ہیں ور نہ مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ دونوں کے رہنما قائداعظم ہیں۔ ہمارا نظریہ وہی ایک ہے۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف سنہ 2015 میں باقاعدہ طور پر کشمیر کی سیاست کا حصہ بنی۔ نئی سوچ کہ ساتھ یہاں پر وہی برسوں پرانے سیاسی چہرے دیکھنے کو ملے جو ماضی میں دوسری جماعتوں کی پہچان تھے۔ خواجہ فاروق اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑتے رہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’پیپلز پارٹی بینظیر بھٹو کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔‘

’22 سال میں نے پیپلز پارٹی میں گزارے ، پارٹی کے لیے ہم نے تحریکیں چلائیں جیلیں کاٹیں۔ بینظیر بھٹو کی کال پر پاکستان گئے وہاں بھی جیلیں کاٹیں۔ لیکن وہ پارٹی بینظیر بھٹو کے ساتھ لیاقت باغ میں ختم ہو گئی۔ کبھی پیپلز پارٹی کا ٹکٹ کامیابی کی ضمانت ہوتا تھا۔ آج اس کے ساتھ کرپشن کا بوجھ بھی ہے۔‘

پارٹی چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہم جو فیصلہ کریں ہم پر اعتبار کیا جائے اور ہمیں کہیں سے ڈکٹیٹ نہ کیا جائے۔‘

ان کے بقول کسی دوسری جماعت کے بجائے تحریکِ انصاف میں شمولیت کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ باقی جماعتیں انھیں ایک جیسی لگیں اور تحریکِ انصاف کے دامن پر ابھی کوئی داغ نہیں تھا۔ خواجہ فاروق کا کہنا تھا ’عمران خان کی قیادت میں ایک وژن ہے۔ انھوں نے تبدیلی کا نعرہ دیا ہے وہ کم از کم کرپشن پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘

بعض سیاسی رہنما نہ پارٹی بدلنے کی وجوہات بتانے کو راضی تھے نہ اپنی مخفی سیاسی کامیابیوں کا ذکر کرنے کو۔ ان کے بقول انھوں نے کشمیر کے لیے بہت کچھ کیا ہے لیکن وہ ہر بات میڈیا کو نہیں بتا سکتے۔

Image caption پارٹی کیوں بدلی آپ اس گہرائی میں نہ جائیں تو اچھا ہے: حنیف اعوان

پیپلز پارٹی سے مسلم کانفرنس میں جانے اور پھر سے پیپلز پارٹی میں آنے والے حنیف اعوان کا کہنا تھا کہ ’میں نے عملا تو پارٹی بدلی لیکن ذہنی طور پر نہیں، پارٹی کیوں بدلی آپ اس گہرائی میں نہ جائیں تو اچھا ہے۔‘

بار بار پارٹی سے جانے اور واپس آنے کے محرکات پوچھنے پر وہ بات بدلتے رہے۔

حنیف اعوان کا کہنا تھا ’پارٹی قیادت کا اعتماد مجھے حاصل ہے۔ میں بہ وجوہ اپنے گھر سے چلا گیا تھا اب لوٹ آیا ہوں۔‘

ان کی کشمیر کے لیے خدمات کے سوال پر وہ ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کے کارنامے دہرانے لگے۔ جب یہ کہا کہ وہ تو پورے پاکستان کے لیے ان کی خدمات ہیں آپ اور جماعت کے دیگر لوگوں کے کشمیر کے لیے کیا گیا تو قدرے برہم ہو کر کہا ’ہر بات انٹرویو میں بتانے کی نہیں ہوتی۔ جو کچھ تاریخ کے مفاد میں تھا، تسلسل میں تھا ہم نے کیا۔‘

لگ بھگ سبھی ایسے سیاستدانوں کا کہنا تھا کہ ان کے حلقے کے لوگ جانتے ہیں کہ پارٹی بدلنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا اور وہ ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔ وہیں اپنے پچھلی پارٹی سے نالاں، مخالفین کی دھجیاں اڑاتے یہ سیاستدان اپنے اپنے حلقے کے ووٹروں سے پر امید ہیں کہ وہ انھیں مایوس نہیں کریں گے۔

بیشتر کو امید ہے ووٹ ان کا ہے نہ کہ ان کی سیاسی پارٹی کا۔ لگ بھگ ہر جماعت کے جلسے یکساں پر جوش اور ووٹروں کے نعروں سے مزین دکھائی دیتے ہیں لیکن 21 جولائی کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے اب تک کہ دلچسپ ترین مقابلے کے نتائج ہی بتائیں گے کہ جیت کس کی ہوئی۔

اسی بارے میں