صوابی میں اے این پی کے رہنما فائرنگ سے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حالیہ برسوں میں اے این پی کی کئی کارکنوں کو شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا گیا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سابق ایم پی اے اور طالبان مخالف امن کمیٹی کے رہنما محمد شعیب خان کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا ہے۔

مقتول کی نماز جنازہ پیر کی صبح صوابی میں ادا کر دی گئی ہے۔

صوابی پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی رات صوابی کے علاقے یارحسین میں پیش آیا۔

یار حسین پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار فھیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد شعیب خان اپنے حجرے میں بیھٹے ہوئے تھے کہ اس دوران ایک مسلح شخص نے اندر داخل ہوکر ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔

انھیں پشاور منتقل کیا گیا جہاں وہ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔

پولیس کے مطابق حملہ آوار دو تھے جو موٹر سائیکل پر آئے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے اے این پی کے رہنما کی قتل کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے تاہم ابھی تک کسی تنظیم کی جانب سے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

دریں اثناء عوامی نیشنل پارٹی نے سابق ایم پی اے کے قتل پر صوبہ بھر میں دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ مقتول محمد شعیب خان کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کے سرگرم رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے جبکہ وہ صوابی میں طالبان مخالف امن کمیٹی کے سرگرم رہنما بھی تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اے این پی کے رہنما اور کارکن گذشتہ تقریباً چھ سالوں سے شدت پسندوں کے حملوں زد میں رہے ہیں۔

اسی بارے میں