اویس شاہ ٹانک سے بازیاب، تین اغوا کار ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کے مطابق گذشتہ ماہ اغوا کیے جانے والے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کو ٹانک سے بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے اس بات کی تصدیق پیر کو رات گئے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کی۔

٭ بیرسٹر اویس شاہ کی بازیابی (تصاویر)

٭ ’چیف جسٹس کے بیٹے کا اغوا سزاؤں کا ردعمل ہو سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اویس شاہ کراچی میں اپنے والد اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ

بعدازاں منگل کی صبح ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اویس شاہ کو فوج کی ایک کارروائی کے دوران خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں اغوا کاروں کے قبضے سے چھڑایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں تین اغوا کار بھی مارے گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ اویس شاہ کی ٹانک کے علاقے میں موجودگی کے تکنیکی شواہد کئی دن سے مل رہے تھے اور پیر کی شب جب مفتی محمود چوک پر قائم ناکے پر فوج کے جوانوں نے اغواکاروں کی گاڑی روکنے کی کوشش کی تو ڈرائیور نے گاڑی بھگا دی۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کے نشانہ باز نے ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کیا تو اس میں سے مزید دو اغوکاروں نے بھی اتر کے فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم انھیں بھی ہلاک کر دیا گیا۔

لیفٹینٹ جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ جب اس گاڑی کی تلاشی لی گئی تو اس میں مغوی اویس شاہ کو منہ پر ٹیپ لگا کر برقع پہنا کر بٹھایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل باجوہ کی ٹویٹ کے مطابق آرمی چیف نے انٹیلیجنس اور سکیورٹی اداروں کی کامیاب کارروائی کو بھی سراہا ہے

انھوں نے کہا کہ اغوا کار تحریکِ طالبان پاکستان کے ایک دھڑے سے تعلق رکھتے تھے جو القاعدہ سے بھی منسلک تھے اور انھیں مغربی سرحد سے افغانستان لے جانا چاہتے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے تصدیق کی کہ اغواکاروں نے اویس شاہ کے اغوا کے بعد ان کے اہلِ خانہ سے رابطہ بھی کیا تھا تاہم انھوں نے ان کے مطالبات کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی۔

اویس شاہ کو بازیابی کے بعد پہلے فوجی کیمپ لے جایا گیا اور پھر وہاں سے خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی پہنچا دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption لیفٹینٹ جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ جب اس گاڑی کی تلاشی لی گئی تو اس میں مغوی اویس شاہ کو منہ پر ٹیپ لگا کر برقع پہنا کر بٹھایا گیا تھا

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بیٹے کی بازیابی کے بعد جسٹس سجاد علی شاہ نے کراچی میں اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیر کی شب رات تین بجے آرمی چیف نے انھیں فون کر کے بتایا کہ اویس شاہ کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف سے بات کے بعد ان کی اویس شاہ سے بات کروائی گئی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اویس شاہ کی بازیابی حکومت کی بھرپور کوششوں کا نتیجہ ہے اور ’پاک فوج حکومت کا ہی حصہ ہے، الگ نہیں ہے۔‘

سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا بالکل ٹھیک ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا انھیں نہیں معلوم کہ ان کے بیٹے کو کس نے اغوا کیا تھا۔

ٹی وی چینلز پر جسٹس سجاد علی شاہ کی رہائش گاہ کے باہر سکیورٹی اہلکاروں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا رش دیکھا جا سکتا ہے جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ اور ان کے بیٹے سے ملاقات کے لیے آنے والے افراد کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے بھی سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور انھیں بیٹے کی بازیابی پر مبارکباد دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption اغوا کار نیلے رنگ کی گاڑی میں سوار تھے

اویس شاہ ایڈووکیٹ گذشتہ ماہ کراچی کے متمول علاقے کلفٹن میں واقع ایک سپر سٹور کے باہر سے غائب ہوگئے تھے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے اویس شاہ کی بازیابی پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو مبارک باد دی ہے اور اویس شاہ کی بازبابی پر سکیورٹی فورسز کے کردار کو قابل تحسین قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ شدت پسندوں نے پانچ سال قبل سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو جبکہ تین سال قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کو بھی پنجاب سے اغوا کیا تھا اور یہ دونوں رواں برس ہی بازیاب ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں