دیر بالا میں امن لشکر پر بم حملہ، سات افراد ہلاک

Image caption ڈوگ درہ ماضی میں شدت پسندوں کا گڑھ رہا ہے، تاہم سکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے بعد یہ علاقہ عسکریت پسندوں سے صاف کرایا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف امن لشکر کی گاڑی پر ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شام دیر بالا کے علاقے ڈوگ درہ میں تھانہ شرینگل کی حدود میں پیش آیا۔

تھانہ شرینگل کے ایک اہلکار گل حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ امن لشکر کے افراد کسی جرگہ میں شرکت کر کے واپس آرہے تھے کہ ان کی پک آپ گاڑی کو سڑک کے کنارے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ دھماکے میں کم سے کم سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد گاڑی نیچے ایک کھائی میں جاگری جہاں پولیس پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دیر بالا کے ضلعی ناظم صاحبزادہ فصیع اللہ نے بتایا کہ مرنے والوں میں ڈوگ درہ امن لشکر کے رہنما اور ویلج کونسل چیئرمین ملک خان محمد بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہلاک ہونے والوں میں امن لشکر کے علاوہ علاقے کے دیگر مقامی مشران بھی شامل ہیں

انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں امن لشکر کے علاوہ علاقے کے دیگر مقامی مشران بھی شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ گاڑی میں کتنے افراد سوار تھے۔

میڈیا کے نمائندوں کو بھیجی گئی ایک ای میل کے ذریعے تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

خیال رہے کہ دیر بالا کے علاقے ڈوگ درہ میں اس سے قبل بھی طالبان مخالف امن لشکر کے رضاکاروں پر متعدد مرتبہ حملے ہوچکے ہیں جس میں کئی افراد مارے جاچکے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ ڈوگ درہ ماضی میں شدت پسندوں کا گڑھ رہا ہے، تاہم سکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے بعد یہ علاقہ عسکریت پسندوں سے صاف کرایا گیا تھا۔

اسی بارے میں