کشمیر:’سیاسی جماعتیں برادریوں کو نظر انداز نہیں کر سکتیں‘

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پارلیمانی انتخابات 21 جولائی کو منعقد ہو رہے ہیں جن میں 26 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔

ان انتخابات میں 26,74,584 افراد بالغ رائے دہی کے تحت اپنے ووٹ کاحق استعمال کریں گے جبکہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں کے لیے ووٹرز کی کل تعداد 4,38,884 ہے۔

٭ کشمیری سیاست دانوں کی بدلتی وفاداریاں

٭’عوام کا کام کریں تو سیاسی پس منظر ضروری نہیں‘

بی بی سی کی نامہ نگار تابندہ کوکب گیلانی کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 41 نشستوں کے انتخابات کے لیے 423 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن میں سے 324 امیدوار پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی 29 نشستوں جبکہ 99 امیدوار پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی بارہ نشستوں کے لیے مدمقابل ہیں۔

انتخابات کے لیے کل 5427 پولنگ سٹیشن جبکہ 8046 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ان انتخابی پولنگ سٹیشنوں میں دس کو حساس ترین جبکہ لگ بھگ ایک ہزار کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات پاکستانی فوجی کی نگرانی میں منعقد ہوں گے۔ اس سے قبل 2011 میں منعقد ہونے والے انتخابات اس خطے کی پولیس کی نگرانی میں کروائے گے تھے ۔

مظفر آباد سے صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کے سیکریٹری میاں نعیم اللہ کا کہنا ہے کہ انتخابات میں امن و امان کو قائم رکھنے کے لیے 29 ہزار سے زائد فوجی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکار پولنگ مراکز کے اندر اور باہر تعینات کیے جائیں گے۔

ان اہلکاروں میں سے 17 ہزار سے زائد فوجی، ایف سی کے دس ہزار جوان اور پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔

نعیم اللہ کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سات ہزار کے قریب اہلکار بھی ان انتخابات میں اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔

ان انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، مسلم کانفرنس اور پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام بھی حصہ لے رہی ہے۔

ان جماعتوں میں جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر، پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی جبکہ مسلم کانفرنس پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔

نامہ نگار تابندہ کوکب کے مطابق 24 اکتوبر 1947 کو پاکستان کے زیرِ انتظام آنے کے بعد کشمیر کے اس حصے میں طویل عرصے تک صدارتی نظام حکومت رہا اور سنہ 1975 میں پارلیمانی نظام متعارف کروائے جانے کے بعد یہاں سیاسی جماعتوں کے لیے میدان بنا۔

ابتدائی طور پر یہاں قابلِ ذکر سیاسی جماعت کی حیثیت سے سنہ 1932 میں قائم سب سے بڑی ریاستی جماعت مسلم کانفرنس ہی پہچان بنا سکی تاہم پھر پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی یہاں اپنی جگہ بنا لی۔

یہاں کئی علیحدگی پسند جماعتیں بھی ہیں لیکن آئین کی شق کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والی ہر جماعت کو الحاق پاکستان کے حلف نامہ پر دستخط کرنا ضروری ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قائم حکومت کا اثر یہاں ہونے والے انتخابات پر واضح نظر آتا ہے اور اس خطے کے انتخابات میں عموما وہی جماعت کامیابی حاصل کرتی ہے جسے پاکستانی حکومت کی حمایت حاصل ہو۔

جب جب پاکستان میں مارشل لا رہا کشمیر کے اس حصے میں مسلم کانفرنس کو انتخابات میں برتری رہی تاہم اس کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی یہاں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔

حالیہ عام انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کا منشور اب تک غیر واضح دکھائی دیتا ہے۔

صحافی اور تجزیہ کار حکیم کشمیری کہتے ہیں کہ ’سیاسی جماعتوں کا منشور محض ایک دوسرے پر الزام تراشی اور اپنی جماعتوں کے رہنماؤں کی تعریفیں کرنا ہی رہ گیا ہے۔ یہاں کوئی بےروزگاری کے خاتمے کی بات نہیں کرتا۔ کوئی آزادئِ کشمیر کی بات نہیں کرتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ گو کہ کشمیریوں میں بالخصوص نوجوانوں میں سیاسی شعور بڑھا ہے لیکن تبدیلی کے نعرے لگانے والی سیاسی جماعتیں بھی انھی چہروں کو آگے لائی ہیں جو کئی بار سیاسی جماعتیں بدل بدل کر آ چکے ہیں۔

’کوئی جماعت نئی سوچ اور جذبہ نہیں لے کر آئی حتیٰ کہ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا کہ ایک خالی خانہ بھی بیلٹ بکس پر رکھا جائے تاکہ جو لوگ اِن میں سے کسی کو بھی ووٹ نہیں دینا چاہتے وہ وہاں مہر لگا کر احتجاج ریکارڈ کروا سکیں۔ اب حال یہ ہے کہ لوگوں کو چھوٹی برائی یا بڑی برائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘

تاہم تجزیہ کار زاہد امین کہتے ہیں کہ جماعتوں کے منشور کی اہمیت اس خطے میں ثانوی ہے کیونکہ یہاں برادریوں اور کنبوں کی اہمیت زیادہ ہے۔ ’سیاسی جماعتیں برادریوں کو نظر انداز نہیں کر سکتیں اگر وہ چاہیں کہ ہمارے آدمی کو ٹکٹ ملے تو ہی ووٹ دیں گے تو پارٹی کو ایسا کرنا پڑتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’جہاں قبیلہ، برادری اور پیسہ اہم ہو جاتا ہے وہاں نظریات اپنی گرفت قائم نہیں کر سکتے اور سیاسی جماعتیں اگر میرٹ کی بنیاد پر کسی سفید پوش کو ٹکٹ دے بھی دیں گی تو اس کی پذیرائی نہیں ہوگی۔‘

زاہد امین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوجوان بہتر حالات چاہتے ہیں لیکن حالات ایسے بن نہیں پا رہے۔

’جب سنہ 2009 میں مسلم لیگ ن آئی تو اس نے مسلم کانفرنس کے ہی پرانے لوگوں کو شامل کیا۔ سنہ 2015 میں جب پاکستان تحریکِ انصاف آئی جس کا نعرہ ہی تبدیلی تھا مگر اس نے بھی انھی لوگوں کو شامل کیا جو سنہ 1975 سے ہر انتخاب کا حصہ رہے۔ لہذا نئی نسل کی جگہ نہیں بن پا رہی۔‘

زاہد امین کے مطابق اب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی جماعتیں اپنی اصولی موقف کو بھول کر پاکستان کی مرکزی جماعتوں کے نعرے دہرانے لگی ہیں۔

’اس کے ذمہ دار یہاں کے سیاستدان خود ہیں جو اس پارلیمان کو آزادی کا بیس کیمپ سمجھنے کے بجائے اب محض عہدوں کی سیاست میں مشغول ہو گئے ہیں۔‘

اسی بارے میں